Isharatullah Khan
مزا بھی تلخ نہیں تھا یہ قہر کیسا تھا اتر رہا تھا رگوں میں جو زہر کیسا تھا اداس سب تھے نئے موسموں کی آمد پر گئی رتوں کا گلہ شہر شہر کیسا تھا نکل سکے نہ کبھی ماضیوں کی خندق سے سماعتوں پہ صداؤں کا قہر کیسا تھا کسی طرح کوئی تریاق کارگر نہ ہوا بدن میں پھیل گیا تھا جو زہر کیسا تھا سوالی سارے تہی دست ہی پلٹ آئے دریچے بند تھے سب کے وہ شہر کیسا تھا خنک ہواؤں میں تھی تیری گفتگو کی مٹھاس وہ تیرا ذکر جو تھا لہر لہر کیسا تھا
mazaa bhi talkh nahin thaa ye qahr kaisaa thaa