Ishrat Jahan Tarab
Ishrat Jahan Tarab
Ishrat Jahan Tarab
Ghazalغزل
nazar milaate hi saaraa vaqaar kho baiThi
نظر ملاتے ہی سارا وقار کھو بیٹھی تمام عمر کا میں اعتبار کھو بیٹھی کسی سے دل کے لگانے کا یہ ہوا انجام سکون چھن گیا صبر و قرار کھو بیٹھی اجالا ہو تو گیا سوز آہ سے لیکن جو کچھ تھا لطف شب انتظار کھو بیٹھی اٹھائی جب نہ گئیں سختیاں محبت کی ہوا یہ حشر کہ میں جان زار کھو بیٹھی گری جو برق الم دل کے جل گئے ارماں چمن کے ساتھ چمن کی بہار کھو بیٹھی بہار عالم فانی سے دل لگا کے طربؔ متاع جلوۂ حسن نگار کھو بیٹھی
thakan se kuchh na kuchh main duri-e-manzil se kahti huun
تھکن سے کچھ نہ کچھ میں دورئ منزل سے کہتی ہوں جو کچھ اچھا برا کہتی ہوں اپنے دل سے کہتی ہوں اٹھا کر حسن کا پردہ دکھا دو جلوۂ رنگیں میں اتنی بات بھی تم سے بڑی مشکل سے کہتی ہوں تھپیڑے پر تھپیڑے کھا کے جب آنکھیں اٹھاتی ہوں اشاروں میں خدا معلوم کیا ساحل سے کہتی ہوں تقاضا ضبط غم کرتا ہے کیا کیا مسکرانے کا تڑپنے کے لئے میں زخم خوردہ دل سے کہتی ہوں بھیانک رات میں غم کی رہ الفت کا افسانہ اکیلے بیٹھ کر پہروں خود اپنے دل سے کہتی ہوں جو پابند محبت ہیں اجل سے ڈر نہیں سکتے مری گردن پہ خنجر پھیر میں قاتل سے کہتی ہوں نہ جانے کیوں طرب بار گراں ہوتا ہے مجنوں کو اگر میں بات کوئی لیلیٰ محمل سے کہتی ہوں
isi se ujDaa huaa laala-zaar hai shaayad
اسی سے اجڑا ہوا لالہ زار ہے شاید چمن سے دور ابھی تک بہار ہے شاید ازل سے گوش بر آواز ہے جہاں سارا تری صدا کا اسے انتظار ہے شاید اسی سے طالب جلوہ پہ بجلیاں نہ گریں ابھی حجاب ہی میں وہ نگار ہے شاید پکارتا ہے زمانہ مگر نہیں سنتا کوئی سمند ہوا پر سوار ہے شاید دعا کو ہاتھ اٹھائے ہوئے ہے اک بیکس کرم کا آپ کے امیدوار ہے شاید پہنچ گیا ہے جو اڑ کر کسی کے دامن تک وہ میری خاک لحد کا غبار ہے شاید اٹھا جو دار فنا سے گیا وہ سوئے عدم مسافروں کی یہی رہ گزار ہے شاید ترے کرم نے نوازا نہیں جو اے ساقی اداس اسی سے ترا میگسار ہے شاید کلیم طور نے دیکھا تھا اے طربؔ جس کو اسی حسیں کا زمانہ شکار ہے شاید
baiThe-biThaae hosh hue gum
بیٹھے بٹھائے ہوش ہوئے گم دیکھ کے ان ہونٹوں پہ تبسم خندہ گل کی باتیں سن کر آ ہی گیا کلیوں کو تبسم حسن تغافل اللہ اللہ جیسے ہم کو بھول گئے تم خوب ہے تیرا دیوانہ بھی آنکھ میں آنسو لب پہ تبسم دونوں ہیں اشعار طربؔ میں لطف تغزل کیف ترنم
sahar ko raat ke taaron ki baat karti huun
سحر کو رات کے تاروں کی بات کرتی ہوں نہیں ہیں ایسے نظاروں کی بات کرتی ہوں مزاج خاک اڑانے پہ بھی نہیں بدلا خزاں کا دور بہاروں کی بات کرتی ہوں اگر نہ بار گراں ہو تو بیٹھ کر سنیے کہ میں نصیب کے ماروں کی بات کرتی ہوں جگر کے زخم ستانے لگے جو شام فراق تو آج ان کے اشاروں کی بات کرتی ہوں یہ کیا بلا ہیں تمہیں کیا خبر ہے کیا جانو میں آج دل کے شراروں کی بات کرتی ہوں چمن کا ذکر کجا داستان گل کیسی زمیں پہ رہ کے ستاروں کی بات کرتی ہوں مآل کار ہوں بھولی ہوئی طربؔ اب بھی بھنور میں پھنس کے کناروں کی بات کرتی ہوں





