SHAWORDS
Ishrat Jahangirpuri

Ishrat Jahangirpuri

Ishrat Jahangirpuri

Ishrat Jahangirpuri

poet
16Ghazal

Ghazalغزل

See all 16
غزل · Ghazal

کون اب جائے نشیمن کو سجانے کے لئے پھر بہار آئی ہے دیوانہ بنانے کے لئے برق سے اتنا ہمیں کہنا ہے اے اہل جہاں کیا ہمارا ہی نشیمن تھا جلانے کے لئے میں سمجھتا تھا کہ آہوں میں اثر کچھ بھی نہیں لیجئے آ ہی گئے خود وہ منانے کے لئے ہم تو سمجھے تھے کہ تکمیل محبت ہے یہی کیا نوازا تھا نگاہوں سے گرانے کے لئے عشق میں دل پہ جو گزری ہے نہ پوچھے وہ کوئی رہ گیا ہوں میں فقط آنسو بہانے کے لئے آج ساقی کی نگاہیں جو اٹھیں بہر کرم وہ گھٹا اٹھی ہنسی میری اڑانے کے لئے باخبر ہوتے نہ وہ راز محبت سے کبھی ہم کو جانا ہی نہ تھا قصہ سنانے کے لئے جس کو جینے کا ہر اک رستہ بتایا تھا کبھی منتخب اس نے کیا ہم کو نشانے کے لئے شاعری جن کی نگاہوں میں ترنم ہے فقط اب وہی آئے ہیں عشرتؔ کو پڑھانے کے لئے

kaun ab jaae nasheman ko sajaane ke liye

2 views

غزل · Ghazal

راز الفت کو چھپایا ہے جفا جو ہم نے ہر ستم پر جو پئے خون کے آنسو ہم نے بال و پر غور سے صیاد نے دیکھے بڑھ کر جب ہلائے ہیں قفس میں کبھی بازو ہم نے پردۂ ابر سیہ جیسے مہ تاباں پر تیرے عارض پہ یوںہی دیکھے ہیں گیسو ہم نے ایک پہلو بھی شب غم نے نہ بدلا افسوس ہو کے بیتاب بہت بدلے ہیں پہلو ہم نے بڑھ کے خود تو نے سفینے کئے نذر طوفاں ناخدا ایسی بھی دیکھی ہے تری خو ہم نے بزم میں تجھ کو نہ پایا تو بہ آداب وفا ڈھونڈھا دزدیدہ نگاہی سے ہر اک سو ہم نے جرأت عرض تمنا کبھی راس آ نہ سکی دل پہ پایا نہ ترے سامنے قابو ہم نے جس پہ پڑ جائیں وہ آئینۂ حیرت بن جائے دیکھا ہے ان کی نگاہوں کا یہ جادو ہم نے بے ادب کہہ کے انہوں نے ہمیں ٹوکا عشرتؔ پیار میں کہہ دیا جب تم کے عوض تو ہم نے

raaz-e-ulfat ko chhupaayaa hai jafaa-ju ham ne

1 views

غزل · Ghazal

خزاں کا دور ہے ہر شے ہے سوگوار ابھی کہو فضا میں رہے ابر اشک بار ابھی ملا نہیں کسی صورت پیام یار ابھی ہوا کوئی بھی نہیں دل کو سازگار ابھی کچھ اور دل کو بنا غم سے تابدار ابھی اس آئنے میں نہیں عکس روئے یار ابھی ہر ایک گام پہ کھائے ہیں دل نے اتنے فریب تمہارے وعدوں پہ مشکل ہے اعتبار ابھی نگاہ رشک سے دیکھیں گے اس کو اہل خرد جنوں کے ہاتھ میں آئے گا نظم کار ابھی بہت بلند ہے معیار آرزو میرا سنور رہی ہے مرے واسطے بہار ابھی بہت ہے دور مرے عزم شوق سے منزل مرا حریف ہے صحرا کا خار خار ابھی مجھے مٹا کے بھی اس کو نہ مل سکے گا سکوں زمانہ بدلے گا کروٹ پھر ایک بار ابھی مزاج شکر ستم ہم بدل نہیں سکتے نگاہ حسن کو کرنا ہے شرمسار ابھی ہزار نقش ابھارے گی یہ تغزل کے تھکی نہیں مری طبع غزل نگار ابھی نگاہ مست کا بھی کوئی دور ہو ساقی ملا نہیں ہے کوئی جام خوش گوار ابھی چمن میں کھل تو گئے پھول پھر بھی بات ہے کیا نشاط خیز نہیں نغمۂ ہزار ابھی عبث ہے عرض تمنا کی فکر اے عشرتؔ ادھر نہیں متوجہ نگاہ یار ابھی

khizaan kaa daur hai har shai hai sog-vaar abhi

1 views

غزل · Ghazal

تاروں میں دلکشی ہے مہکتی ہے کائنات وہ یاد آئے ہیں تو سہانی ہے کتنی رات تو نے جسے بھی کر دیا محروم التفات اس کو نہ راس آئی کبھی منزل حیات کیا پوچھتے ہو اس سے بہاروں کے واقعات وہ زندگی جو ہو گئی پامال حادثات آگے ہیں این و آں سے ہمارے تصورات واعظ سے کہہ دو چھیڑے نہ بحث صفات و ذات ہر ہر نفس پہ حشر اٹھاتے ہیں سانحات آساں نہیں ہے عشق میں ترک تعلقات کیوں اپنی زندگی نہ بنے جان کائنات مجھ کو مٹا گیا ہے ترا ناز التفات بربادیوں کا اس کی اب احساس ہے عبث وعدوں پہ تیرے کر کے یقیں جس نے کھائی مات محصور یوں کیا ہے غم روزگار نے پیش نظر نہیں ہے کوئی صورت نجات تم نے نگاہیں پھیر لیں کیا میری سمت سے رخ موڑنے لگی مری جانب سے کائنات محسن کشی نہیں مرا شیوہ یقیں کرو میرے لئے تو ہم نفسو کفر ہے یہ بات ناداں خدا سے کر دل غم آشنا طلب ورنہ یہاں نہیں ہے کسی شے کو بھی ثبات میں جانتا ہوں راز پریشانیٔ جہاں زلفیں سنوار لو تو سنور جائے کائنات آرائش سخن کی ہے فرصت کہاں مجھے عشرتؔ بہ فیض عشق ہے حسن تخیلات

taaron mein dil-kashi hai mahakti hai kaainaat

1 views

غزل · Ghazal

جذبۂ ضبط محبت کو دبائیں کیونکر حال دل خود ہی وہ پوچھے تو بتائیں کیونکر غم کی دھوپ آ کے اڑا دیتی ہے ہر رنگ خیال ان کی تصویر بنائیں تو بنائیں کیونکر کر گئی ہے ہمیں بے خود ترے ہونٹوں کی ہنسی فصل گل آئے تو ہم ہوش میں آئیں کیونکر آج ہم صحن چمن چھوڑ دیں ممکن ہے مگر آشیاں اپنے ہی ہاتھوں سے جلائیں کیونکر ان کو فرصت نہیں جب اپنی ہی آرائش سے غم کدے میں وہ مرے شمع جلائیں کیونکر ہوش اڑ جاتے ہیں جب سامنے ان کے ہمدم داستان دل بیتاب سنائیں کیونکر چپ بھی رہئے تو یہاں ملتے ہیں طعنے عشرتؔ آبرو ایسے زمانے میں بچائیں کیونکر

jazba-e-zabt-e-mohabbat ko dabaaein kyunkar

1 views

غزل · Ghazal

قید کرنا ہے صیاد کر شوق سے شاخ گل پر مرا آشیاں چھوڑ دے اک تڑپتے ہوئے دل کی آواز ہے میری محنت نہ کر رائیگاں چھوڑ دے ناخدا دیکھ کر یہ طریق جفا کہیے انصاف سے دل پہ گزرے گی کیا لا کے کوئی سفینہ اگر آپ کا عین طوفاں میں اے مہرباں چھوڑ دے اے شب غم تو وقت سحر چل تو دی ہے جو تیری خوشی وہ ہماری خوشی روز روشن میں بھی دل بہلتا رہے کوئی ایسا اک اپنا نشاں چھوڑ دے پھونکنا ہے اگر پھونک دے گلستاں پوچھتی ہے عبث وجہ آہ و فغاں میرا سرمایۂ زندگی ہیں یہی چار تنکے ہی برق تپاں چھوڑ دے ہر قدم پر ملے ہیں فریب حسیں ہے گوارا بہرحال شکوہ نہیں پھر یہ ممکن ہے کیسے بتا ناصحا میرا دل منزل امتحاں چھوڑ دے صحن‌ گلشن میں ہو لاکھ جور و جفا ہر قدم پر سزا بھی ملے بے خطا پھر بھی ممکن نہیں بلبل خوش نوا اپنا مخصوص رنگ بیاں چھوڑ دے چاہتا ہوں کہ عشرتؔ جنون وفا ہر قدم پر رہے میرا مشکل کشا مرحلے عشق کے سخت دشوار ہیں کیا خبر ساتھ ہستی کہاں چھوڑ دے

qaid karnaa hai sayyaad kar shauq se shaakh-e-gul par miraa aashiyaan chhoD de

1 views

Similar Poets