
Ishrat Sagheer
Ishrat Sagheer
Ishrat Sagheer
Ghazalغزل
uThti kabhi kabhi hai koi Tiis haae dil
اٹھتی کبھی کبھی ہے کوئی ٹیس ہائے دل مال و متاع کچھ بھی نہیں تھے سوائے دل پھرتی ہیں میرے سامنے جب صورتیں کئی پھر کس کو یاد رکھے کسے بھول جائے دل وقت وداع یار تحمل سے کام لے اب خود کو کس طرح سے یوں پتھر بنائے دل ہو کچھ بھی مضطرب یہ مگر دل تو ہے نہیں برق تپاں ہے سینہ میں شاید بجائے دل ہوتی ہیں کیسی کیسی یہاں لال کاریاں اپنا اثر دکھاتی ہے جب کربلائے دل تبدیل کر دیا ہے ہر اک طور عشق نے محفل سے جی چرائے تو صحرا میں گائے دل
tu kahtaa hai tujhe matlab nahin thaa
تو کہتا ہے تجھے مطلب نہیں تھا وفا کا پاس مجھ کو کب نہیں تھا یہ ترکہ بھائیوں میں بانٹتے تم تمہارے نام سب کا سب نہیں تھا میاں رونے کی میں نے مشق کی تھی بہت آسان یہ کرتب نہیں تھا ہماری گفتگو ہوتی تھی اکثر ہمارے ساتھ وہ جب جب نہیں تھا تو کیا پہلے کی ساری لڑکیوں کو زمانہ کی روش کا ڈھب نہیں تھا یہ فیشن جو ہے اب عریانیت کا نہیں تھا بھائی میرے تب نہیں تھا فقط سیکھا ہے ہم نے تجربوں سے ہمارے واسطے مکتب نہیں تھا وہ جس کے ساتھ کل میں نے بہت پی وہ میکش میرا ہم مشرب نہیں تھا کھلے گا راز یہ آخر میں عشرتؔ خدا کا کوئی بھی مذہب نہیں تھا
mujhe maa'lum hai bejaa lagegi
مجھے معلوم ہے بے جا لگے گی اگر ہر شب شب وعدہ لگے گی بظاہر سب کو بے پروا لگے گی جو تتلی پھول کی جویا لگے گی ہے گزرا کامیابی سے اگر ہجر تو اس کی بد دعا بھی کیا لگے گی یہی ہوگا وہ روشن فکر لڑکی کھلے بندوں گلے سے آ لگے گی کلاسک عشق ہے میرا تو مجھ کو مری والی مدھو بالا لگے گی میں ہونٹوں سے وہ آنکھیں چوم لوں گا یہ کشتی اب لب دریا لگے گی کہا عشرتؔ نے چودہ فروری کو ہماری لوٹری اب کیا لگے گی
khaar un ki mezbaani kar rahe the
خار ان کی میزبانی کر رہے تھے جو گلوں کو زعفرانی کر رہے تھے وہ ہمارا ورد بنتا جا رہا تھا یاد اس کو منہ زبانی کر رہے تھے کر بھی کیا سکتے تھے ہم پھرتے جنوں میں بس چنر کو تیری دھانی کر رہے تھے کتنا مشکل ہو گیا تھا پاس آنا آپ کتنی آنا کانی کر رہے تھے کاٹ کر پربت کو رستا کرنے والے عشق اپنا داستانی کر رہے تھے قید میں صیاد کی بھوکے پرندے دانہ دانہ پانی پانی کر رہے تھے تتلیوں کے پیچھے پیچھے پھرتے عشرتؔ رائیگاں اپنی جوانی کر رہے تھے
har ek shakhs ko saaraa hisaab denaa hai
ہر ایک شخص کو سارا حساب دینا ہے سوال اٹھنے لگے تو جواب دینا ہے یہ نشہ تم کو پلانا پڑے گا آنکھوں سے کہ جام بھر کے اگرچہ شراب دینا ہے ستم شعار کو آداب قتل آتے ہیں ابھی نظر کی کٹاری کو آب دینا ہے لہولہان کھڑا سوچتا ہوں کانٹوں میں یہ کیسا شوق ہے کس کو گلاب دینا ہے بدن پگھلنے تک آغوش میں رہو میری ذرا سا خود کو نہیں پیچ و تاب دینا ہے یہی سلوک کیا جا رہا ہے برسوں سے کہ ان کو شہد ہمیں زہر ناب دینا ہے بس اس نظام کو تبدیل تم کرو عشرتؔ نیا زمانہ نیا انقلاب دینا ہے
qadam hamaare bhi rafta rafta sanbhal rahe hain
قدم ہمارے بھی رفتہ رفتہ سنبھل رہے ہیں محبتوں کے چراغ راہوں میں جل رہے ہیں نہیں کسی کو کسی سے اب ہے کوئی شکایت نئے زمانہ کے زاویے بھی بدل رہے ہیں کھلیں گی ان کی بھی جلد آنکھیں یقین رکھیے جو لوگ اپنے تئیں یہ آنکھیں مسل رہے ہیں سمجھ میں آئے نہ حسن والے کبھی ہمیں تو ہماری خاطر یہ لوگ مشکل پزل رہے ہیں یہ کشمکش ہے بس ایک تم کو ہی بھولنے میں نہیں تو اب تک سبھی ڈسیزن اٹل رہے ہیں جو اپنی فطرت میں ہر طرح سے تھے سخت پتھر وہ موم ہو کر تری تپش سے پگھل رہے ہیں نہیں ہمارا کوئی جہاں میں جواب عشرتؔ نہ ہم کسی کے یہاں پہ نعم البدل رہے ہیں





