
Ishtiyaq Danish
Ishtiyaq Danish
Ishtiyaq Danish
Ghazalغزل
چمن کو موسم گل آ کے تازگی دے گا چراغ کی یہ جبلت ہے روشنی دے گا بڑی امید سے میخانے آئے صحرا سے کسے خبر تھی کہ ساقی بھی تشنگی دے گا اب ان کی بزم میں جائے تو کوئی کیوں جائے پتہ ہے ظلم کا شیدائی بے بسی دے گا خدا کے گھر میں مگر سوچ کر یہ آئے ہیں یہ ایک سجدہ ہمیں لطف بندگی دے گا نہ رکھ امید کبھی بزم عشق چمکے گی کہ حسن خوگر ظلمت ہے تیرگی دے گا جب اس نے موت ہی بانٹی ہے عمر بھر دانشؔ تو کیسے مان لیں وہ ہم کو زندگی دے گا
chaman ko mausam-e-gul aa ke taazgi degaa
1 views
سجتی ہے اہل دل کی یہ محفل کبھی کبھی ملتی ہے زندگی میں یہ منزل کبھی کبھی منظر ذرا یہ دل کے تڑپنے کا دیکھ لے ملتا ہے یہ نظارۂ بسمل کبھی کبھی لیکن وہ حسن کو بھی ملی کب رہ وفا مانا بھٹک گیا ہے مرا دل کبھی کبھی جانے یہ راز کیا ہے کہ آسان راہ کو خود راہبر بناتا ہے مشکل کبھی کبھی
sajti hai ahl-e-dil ki ye mahfil kabhi kabhi
داغ فرقت وصال کی باتیں چھوڑ خواب و خیال کی باتیں زندگی کیا ہے اک قیامت ہے درد آہیں ملال کی باتیں کشف والوں کو ہم بتاتے ہیں معجزات جمال کی باتیں فکر ہم کو کمال فن کی ہے وہ سنائیں زوال کی باتیں میرے افسانوں میں تو بکھری ہیں گردش ماہ و سال کی باتیں ذکر ماضی عذاب جیسا ہے اس سے بد تر یہ حال کی باتیں چاند جلتا ہے جب بھی ہوتی ہیں تیرے حسن و کمال کی باتیں آؤ دانشؔ سے آج سنتے ہیں الفت لا زوال کی باتیں
daagh-e-furqat visaal ki baatein





