Islam Parvez
Islam Parvez
Islam Parvez
Ghazalغزل
حسیں لباس میں بے حد بھلا لگے ہے مجھے وہ آدمی ہے مگر دیوتا لگے ہے مجھے کتاب زیست کے اوراق منتشر کر کے وہ اپنی ذات سے کتنا کٹا لگے ہے مجھے یہ شورشوں کا زمانہ یہ وار کا موسم زمیں سے تا بہ فلک چیختا لگے ہے مجھے نہ جانے کب سے ہوں راہ سفر میں سرگرداں وجود اپنا کہیں بھاگتا لگے ہے مجھے گلی گلی میں کچھ ایسا سکوت چھایا ہے کہ اپنی چیخ بھی اب بے صدا لگے ہے مجھے کہاں سے آئے لہو غم زدہ پتنگوں میں چراغ شام بھی بجھتا ہوا لگے ہے مجھے گھروں میں بند رہو کھڑکیاں بھی مت کھولو کہ اب یہ شہر بھی آسیب سا لگے ہے مجھے میں ریزہ ریزہ ہوا جا رہا ہوں اے پرویزؔ مرا وجود بھی بکھرا ہوا لگے ہے مجھے
hasin libaas mein behad bhalaa lage hai mujhe
کہیں کہیں تو یہ منظر بدل گیا ہوگا پہاڑ کٹ کے سمندر سے جا ملا ہوگا کسی کی پلکوں پہ جب بھی دیا جلا ہوگا تمام شہر اجالوں سے بھر گیا ہوگا سلگتی یادو کریدو نہ میرے ماضی کو جراحتوں کا کوئی وہ بھی سلسلہ ہوگا وہ اپنے خواب کے ہیبت زدہ اندھیرے میں خود اپنی چیخ پہ یک لخت ڈر گیا ہوگا تمام راستے ویران ہو چکے ہوں گے اب ان کا شہر بھی صحرا سے جا ملا ہوگا جدھر کا عزم سفر کر رہے ہو تم پرویزؔ ادھر تو اور بھی تاریک راستہ ہوگا
kahin kahin to ye manzar badal gayaa hogaa
میں اک لاشہ تھا اٹھوایا گیا ہوں چتا پر زیست کی لایا گیا ہوں میں تھا روپوش امریکہ کی صورت نہ جانے کس طرح پایا گیا ہوں تمازت سے پگھل جاؤں گا یارو سوا نیزے پہ لٹکایا گیا ہوں براہیمی سلامت رکھ خدایا بتوں کے شہر میں لایا گیا ہوں اٹھائے ہے جسے دست مسیحا اسی نیزے پہ لٹکایا گیا ہوں اندھیری رات میں پرویزؔ اکثر ستاروں ہی سے بہلایا گیا ہوں
main ik laasha thaa uThvaayaa gayaa huun
رات ہر موڑ پہ پھینکے گئے پتھر کتنے بے قصوروں کو لگی چوٹ پھٹے سر کتنے آج اس امن کی ساعت کو غنیمت سمجھو کیا خبر چمکیں گے کل شہر میں خنجر کتنے کس قرینے سے مری جیب کتر لیتے ہیں ان کے شوکیس میں رکھے ہوئے پیکر کتنے کبھی پت جھڑ کا سماں ہے تو کبھی حسن بہار اف نئے روپ بدلتے ہیں یہ منظر کتنے تشنگی اتنے غضب کی ہے کہ بجھتی ہی نہیں یوں تو پی جاتا ہوں ہر روز سمندر کتنے اپنے قدموں سے جنہیں روندتے پھرتے ہیں ہم انہیں ذرات میں پوشیدہ ہیں جوہر کتنے اے مرے ذہن کی چنگاری تو کب بھڑکے گی منجمد ہو گئے احساس کے پیکر کتنے فن کی گہرائی کو ناپو گے بھلا کیا پرویزؔ اس سمندر میں تو ڈوبے ہیں شناور کتنے
raat har moD pe pheinke gae patthar kitne
گردوں پہ چاند بجھ گیا غم کی فضا کے بعد ظلمت تمام چھا گئی شام بلا کے بعد اک بے کراں وجود کا حصہ ہے یہ بشر انساں بہت عظیم ہے لیکن خدا کے بعد بنجر زمیں پہ خون ریاضت بہا گیا وہ کون تھا اگا گیا پودا دعا کے بعد مجھ کو ملا کے خاک میں وہ کہہ رہے ہیں یہ ہے ابتدا ہماری تری انتہا کے بعد چاہے زمانہ مجھ کو چڑھا دے صلیب پر تیرا ہی نام آئے گا لب پر خدا کے بعد کل رات میرے شہر کا منظر عجیب تھا سب کچھ بہا کے لے گیا دریا ہوا کے بعد
gardun pe chaand bujh gayaa gham ki fazaa ke baa'd
قرب کی لذت نے آخر تم کو تنہا کر دیا خواہشوں کی دھوپ نے مجھ کو بھی صحرا کر دیا بے سبب ملتے نہیں ہیں لوگ اپنے آپ سے خود سے ملنے کی تمناؤں نے بوڑھا کر دیا میرے دروازے پہ آ کر رات بھر روتی رہی سر کٹی عورت نے اک ہنگامہ برپا کر دیا دل کے بوسیدہ مکاں میں خیمہ زن تھیں ظلمتیں آج لیکن وقت نے آ کر اجالا کر دیا ہر مہاجن خون میرا چوسنے پر ہے مصر ذائقہ میرے لہو کا کس نے میٹھا کر دیا چھلنی چھلنی جسم کی پرویزؔ اب حالت نہ پوچھ وقت کے پتھر نے مجھ کو ریزہ ریزہ کر دیا
qurb ki lazzat ne aakhir tum ko tanhaa kar diyaa





