Ismail Khan Talib
Ismail Khan Talib
Ismail Khan Talib
Ghazalغزل
لطیف بن کے مہک جو گل و سمن میں رہے کہیں تمہیں تو نہیں پردۂ چمن میں رہے زلیخا ہوتی ہے رسوا بھی پاک دامانی الجھ کے لاکھ جو یوسف کے پیرہن میں رہے بجھا ہو دل ہی تو اس جستجو سے کیا حاصل کوئی ہو پھول کسی گوشۂ چمن میں رہے جنوں قسم ہے تجھے بات ہوش کی جب ہے کہ ایک تار بھی باقی نہ پیرہن میں رہے خدا سے کر کے دعا تم کو مانگ ہی لیں گے زباں ہماری سلامت اگر دہن میں رہے سخن کی بزم پہ موقوف کچھ نہیں طالبؔ رہے ہیں روح رواں ہم جس انجمن میں رہے
latif ban ke mahak jo gul-o-saman mein rahe
رسم ہوتی ہے مری اب بھی ادا میرے بعد خاک اڑاتی ہے بیاباں میں صبا میرے بعد عشق کو میرے جنوں کہہ کے نوازا تم نے ہائے رسوا مجھے کیا کیا نہ کیا میرے بعد اب مری طرح کسے کھینچ کے شامت لائی کون ہے حاصل بیداد و جفا میرے بعد ابر تو چھاتے ہیں مے خانے پہ اب بھی لیکن لطف معدوم مکدر ہے فضا میرے بعد میرے جاتے ہی گلستاں پہ اداسی چھائی پھول تو پھول ہیں سبزہ نہ اگا میرے بعد پوچھنے والا ہی تھا کون جہاں میں طالبؔ نام بھی مٹ گیا اچھا ہی ہوا میرے بعد
rasm hoti hai miri ab bhi adaa mere baa'd
کہیں زاغ کی رسائی کسی گوشۂ چمن میں کہیں خواب تو نہیں ہے مرا ذکر انجمن میں میں کبھی حریم گل میں کبھی گوشۂ چمن میں تجھے ڈھونڈھتا رہا ہوں میں ہر ایک انجمن میں وہ لطیف کیفیت جو تری چشم کی عطا ہے یہ ودیعت الٰہی کہاں بادۂ کہن میں وہ حسیں جواں تھے کتنے مری زندگی کے حاصل جو ملے تھے چند لمحے مجھے تیری انجمن میں نہیں عزم جس کا تنہا میں وہ رہرو عدم ہوں مرے دل کی حسرتیں بھی مرے ساتھ ہیں کفن میں سر بزم ان کی مجھ پر جو نوازش کرم ہے مرے حاسدوں کے طالبؔ لگی آگ تن بدن میں
kahin zaagh ki rasaai kisi gosha-e-chaman mein





