Ismat Javed
Ismat Javed
Ismat Javed
Ghazalغزل
جو مستحق ہیں اصل میں آب حیات کے پیاسے وہی ملیں گے کنارے فرات کے اب اک نئی لغت کے حوالے سے بات کر اب خیر و شر میں رنگ کہاں ہیں ثبات کے مذہب سے ہٹ کے کھوج کریں تو پتہ چلے مابین کیا تھا غزنوی و سومنات کے سورج کی روشنی میں بلا کر نہ کر ذلیل رہنے دے رات میں جو پرندے ہیں رات کے افسوس ان سے کعبۂ دل ہو نہ سکا پاک چرچے وہی ہیں آج بھی لات و منات کے آوارہ پھر رہے ہیں جڑوں کی تلاش میں ہم پھول پھول گھومتے بھونرے حیات کے کیا کیا ہوس ہے حضرت جاویدؔ کو نہ پوچھ پابند ہیں اگرچہ وہ صوم و صلٰوۃ کے
jo mustahiq hain asl mein aab-e-hayaat ke
مجھے تھا ناز اک دل پر ہوا نذر جنوں وہ بھی جنوں کیسا کہ حسن یار کا تھا اک فسوں وہ بھی محبت کو جنوں تو ہم بھی کہتے ہیں مگر پھر بھی جسے کہتے ہیں سب ترک محبت ہے جنوں وہ بھی محبت ایک شعلہ جس میں گرمی بھی اجالا بھی جسے سمجھا تھا ساز عشق ہے سوز دروں وہ بھی اگر جنت فقط آسودگی کام و دہن کی ہے تو پھر کیوں میری نظروں میں نہ ہو دنیائے دوں وہ بھی تمہاری نذر کے قابل اگر کچھ تھا تو دل میرا مگر ہے پنجۂ آلام میں صید زبوں وہ بھی رہے دنیا کے طالب ترک دنیا کر کے بھی دیکھا تمناؤں کا خوں یہ بھی تمناؤں کا خوں وہ بھی دیار عشق میں ہم خاکسار اچھے رہے جاویدؔ جو سرکش تھے یہاں پائے گئے ہیں سرنگوں وہ بھی
mujhe thaa naaz ik dil par huaa nazr-e-junun vo bhi





