SHAWORDS
I

Israr Kafeel

israr Kafeel

israr Kafeel

poet
14Ghazal

Ghazalغزل

See all 14
غزل · Ghazal

بکھر جاتا ہے جب سپنا تو منظر میں نہیں رہتا ہوا کا عکس آئینوں کے جوہر میں نہیں رہتا اسے تعبیر کرنا ہے طلوع اشک سے لیکن وہ اک بہتا اجالا ہے سمندر میں نہیں رہتا جسے میں ڈھونڈھتا رہتا ہوں تصویروں کے میلے میں وہ رنگوں کا تلاطم اپنے پیکر میں نہیں رہتا کوئی موج سراب اس میں سرایت ہے کہ اب اکثر فسون لمس کا عالم گل تر میں نہیں رہتا بہت دن ہو گئے اس سے نہیں ہے رابطہ میرا بہت دن ہو گئے دل اپنے محور میں نہیں رہتا بجھا کر پیاس جھیلوں سے پرندے اڑتے جاتے ہیں کوئی بھی عمر بھر آنکھوں کے ساگر میں نہیں رہتا کفیلؔ آخر طلب لے جائے گی اس کو وہاں سے بھی مسافر دیر تک ٹھہرا کھلے در میں نہیں رہتا

bikhar jaataa hai jab sapnaa to manzar mein nahin rahtaa

غزل · Ghazal

دل غم کے لئے مزرع زرخیز بہت ہے اور دشت جنوں ہے کہ غم انگیز بہت ہے ہم برگ خزاں دیدہ کوئی ڈھونڈ بھی لائیں لیکن یہ زمانے کی ہوا تیز بہت ہے پابند وفا ہے کہ چھلکنے سے ہے مانع پیمانۂ جاں ورنہ تو لبریز بہت ہے کیا طرز تکلم سے ہمیں اس کے سروکار انداز تخاطب ہی دل آویز بہت ہے اس آہوئے رم خوردہ سے مشکل ہے رہ و رسم وہ شہر کے لوگوں میں کم آمیز بہت ہے اے صبح ستاروں کی تجلی میں نظر آ ہنگام شباب اب تو سحر خیز بہت ہے کچھ ہم بھی کفیلؔ ایسے تکلف سے گریزاں کچھ ان کو بھی یوں عادت پرہیز بہت ہے

dil gham ke liye mazra'-e-zarkhez bahut hai

غزل · Ghazal

لڑائی ہو تو کاغذ کی سپر سے کچھ نہیں ہوتا تمہاری یا کسی کی چشم تر سے کچھ نہیں ہوتا رگوں میں ہے اندھیرا تو یہ روز و شب ہی کافی ہیں حدیث خیر سے یا حرف شر سے کچھ نہیں ہوتا کوئی ساعت مقرر ہے کہیں اک مستجابی کی کف افسوس سے دست ہنر سے کچھ نہیں ہوتا انہیں ان کے حواری ہم سخن بدنام کرتے ہیں تری افواہ سے میری خبر سے کچھ نہیں ہوتا کڑے دن کٹتے کٹتے بھی سروں کی فصل کٹتی ہے کہ دشت کربلا میں ایک سر سے کچھ نہیں ہوتا مکان اپنے مکینوں سے حسیں اور خوب صورت ہیں فقط آرائش دیوار و در سے کچھ نہیں ہوتا جنوں کو چاہئے اک تیشۂ اعمال کا موسم یہاں الفاظ کے زیر و زبر سے کچھ نہیں ہوتا بہت بڑھ جاتی ہے سنجیدگی جب دونوں جانب تو سوا افسوس کے حاصل سفر سے کچھ نہیں ہوتا کفیلؔ اک سائباں سر پر رہے ماں کی دعاؤں کا مرا نقصاں کسی حاسد نظر سے کچھ نہیں ہوتا

laDaai ho to kaaghaz ki sipar se kuchh nahin hotaa

غزل · Ghazal

پلٹ کے دیدۂ حیران بھی نہیں لایا میں اپنے ساتھ یہ پہچان بھی نہیں لایا سفر میں رخت سفر سے بھی بوجھ بڑھتا ہے اسی لئے تو میں سامان بھی نہیں لایا کہیں بدل نہ گیا ہو سمندروں کا مزاج مہ تمام تو ہیجان بھی نہیں لایا کسی طرح نہیں لگتا مرے قبیلے کا جو شخص خواب میں امکان بھی نہیں لایا تعلقات میں کچھ ہیں ابھی نشیب و فراز مگر میں ذہن میں کچھ ٹھان بھی نہیں لایا عجب سراب زدہ تھا افق میں ڈوبتا چاند کسی کے چہرے پہ مسکان بھی نہیں لایا بکھر گیا سر صحرا کفیلؔ اور میں دیکھ سکوت دشت میں طوفان بھی نہیں لایا

palaT ke dida-e-hairaan bhi nahin laayaa

غزل · Ghazal

آزار ہی اب کوئی مکانوں پہ گرے گا لگتا ہے کہ یہ بار بھی شانوں پہ گرے گا اس بار کوئی تیر کمانوں میں نہیں ہے اس بار مگر جسم نشانوں پہ گرے گا اک چیخ سے گونجیں گی کئی اور بھی صدیاں آواز کا پتھر ہے زمانوں پہ گرے گا سب دیکھتے رہ جائیں گے یہ تیر بکف لوگ جب جا کے پرندہ یہ چٹانوں پہ گرے گا اک شخص جو خوابوں میں بھی سائے کی طرح ہے کب حرف یقیں بن کے گمانوں پہ گرے گا ہم خیمۂ اشجار سے گزریں گے بہر کیف غم صورت برفاب مچانوں پہ گرے گا جب تک کہ تکلم میں نہیں طاقت گفتار کیا حرف طلب کوئی زبانوں پہ گرے گا خواہ اوج فلک تک ہی چلا جائے یہ سورج تھک کر اسی دھرتی کے دہانوں پہ گرے گا تم پھول برسنے کی کفیلؔ آس تو رکھنا کیا سنگ سدا آئینہ خانوں پہ گرے گا

aazaar hi ab koi makaanon pe giregaa

غزل · Ghazal

چاروں جانب آئنے ہیں بولتا کوئی نہیں دے رہا ہوں دستکیں در کھولتا کوئی نہیں اک یقین و بے یقینی کا خلا ہے درمیاں لوگ بہرے ہو گئے یا بولتا کوئی نہیں گرم آوازوں کی رت میں کتنے جھرنوں جیسے نام وہ نہیں تو کان میں رس گھولتا کوئی نہیں گھونسلے اجڑے تھے اک دن آندھیوں میں اور اب خواہش پرواز میں پر تولتا کوئی نہیں جگنوؤں کو قید سے آزاد کر دیتا ہے وہ شاخ شب پر جب ستارہ ڈولتا کوئی نہیں کون کس کو جانتا ہے آئنوں کے شہر میں ہم وہ پتھر ہیں کہ جن کو مولتا کوئی نہیں یہ تو بس ہم نے گنوائے ریت میں گوہر کفیلؔ خاک میں ورنہ تو موتی رولتا کوئی نہیں

chaaron jaanib aaine hain boltaa koi nahin

Similar Poets