
Izhar Warsi
Izhar Warsi
Izhar Warsi
Ghazalغزل
sahar khvaab-e-hasin se baahar aa
سحر خواب حسیں سے باہر آ لذت بے یقیں سے باہر آ جزو طوفاں نہیں تو قطرہ کیا موجۂ تہ نشیں سے باہر آ پھر سوئمبر رچے دھنش ٹوٹے آ درون زمیں سے باہر آ باب مہ کھول یا دریچہ مہر میری خاطر کہیں سے باہر آ کیسے دوں میں سجود جاں کا حساب داغ پنہاں جبیں سے باہر آ دل کی راہوں میں سرحدیں کیسی خط کشیدہ زمیں سے باہر آ نیلگوں ہو چکا ہوں میں کب کا اب مری آستیں سے باہر آ
us ne apnaa liyaa to Thahraa main
اس نے اپنا لیا تو ٹھہرا میں وہ سمندر ہے اور دریا میں اس کی وسعت میں وسعتیں میری اس کی گہرائیوں میں گہرا میں سنگ برسے کہ پھول مت پوچھو ٹوٹنا تھا مجھے سو ٹوٹا میں ہم نشیں کیا جو ہم خیال نہیں انجمن انجمن ہوں تنہا میں ربط گفت و شنید ہو تو کھلے لوگ گونگے ہیں یا ہوں بہرا میں اب نہ جذبہ نہ آرزو نہ امید بن دوانوں کا ایک صحرا میں یاد رکھنا ہی ناگزیر ہے کیوں کبھی تجھ کو بھلا بھی سکتا میں
shikasta khvaabon kaa aankhon se raabta kar lein
شکستہ خوابوں کا آنکھوں سے رابطہ کر لیں ہر ایک شب کا تقاضا کہ رت جگا کر لیں لگائیں بھیڑ گئے زرد و سبز لمحوں کی اور اس ہجوم میں پھر خود کو لاپتہ کر لیں وگرنہ جینے نہ دے گا غم حیات کا زہر کسی کے بھولے ہوئے غم کا پھر نشہ کر لیں کچھ احتجاج بھی رکھیں شریک ضبط ستم زباں ہے گنگ تو چہرہ سوالیہ کر لیں وہ زخم دست طلب ہو کہ ہو گل شاداب وہ کچھ تو دے گا ہمیں عرض مدعا کر لیں نظر ہے تیری توجہ کے ہر ترشح پر پڑے پھوار تو زخموں کو پھر ہرا کر لیں دکھائی دینے لگا رخ پہ رنگ باطن بھی بہت قریب ہیں ہم تھوڑا فاصلہ کر لیں
yaadon mein rang bhar rahaa huun
یادوں میں رنگ بھر رہا ہوں زخموں کو گلاب کر رہا ہوں ہر سانس ایک ان سنی سی آہٹ میں جانے کس پہ مر رہا ہوں دنیائیں وجود پا رہی ہیں ریزہ ریزہ بکھر رہا ہوں اک لمحۂ گم شدہ کی خاطر صدیوں کا حساب کر رہا ہوں مقصود سفر ہے کچھ تو ایسا شعلوں سے جو گزر رہا ہوں ہے ایک جنون خود شناسی اکثر اپنے ہی سر رہا ہوں طوفان گزر چکا ہے کب کا اب دریا سا اتر رہا ہوں رشتے مضبوط ہو رہے ہیں پیشانیوں پر ابھر رہا ہوں تھا فخر بہت فلک رسی پر خود اپنے پر اب کتر رہا ہوں
aasmaanon saa khulaa-pan bhi mujhe chaahiye hai
آسمانوں سا کھلا پن بھی مجھے چاہئے ہے پاؤں تھک جائیں تو مسکن بھی مجھے چاہئے ہے دوستو تم سے امیدیں تو بہت کچھ تھیں پر اب ایک معقول سا دشمن بھی مجھے چاہئے ہے قبل منزل کہیں لٹ جانے کی حسرت ہے بہت راہبر ہی نہیں رہزن بھی مجھے چاہئے ہے مسئلے کم نہیں ویسے ہی سلجھنے کے لیے اور تری زلف کی الجھن بھی مجھے چاہئے ہے وقت کے ساتھ بدلتی نہیں تحریر نہاد تتلیاں دیکھوں تو بچپن بھی مجھے چاہئے ہے اب تو اس شرط پہ چاہوں میں ترے حسن کی آنچ آگ لگ جائے تو ساون بھی مجھے چاہئے ہے
lamha lamha dastak de kar taDpaataa hai jaane kaun
لمحہ لمحہ دستک دے کر تڑپاتا ہے جانے کون رات گئے من دروازے پر آ جاتا ہے جانے کون اپنی سانسوں کی خوشبو کو گھول کے میری سانسوں میں میرا سونا جیون آنگن مہکاتا ہے جانے کون اک انجانے ہاتھ کو اکثر شانے پر محسوس کروں مجھ سے دور ہی رہ کر مجھ کو اپناتا ہے جانے کون آنکھیں تو پربت کے پیچھے چھپتے چاند کو دیکھیں بس اس منظر کی اوٹ میں لیکن شرماتا ہے جانے کون دھوپ میں دشت تنہائی کی میرے جلتے ہونٹوں کو لمس اپنے گلبرگ لب کا دے جاتا ہے جانے کون اپنے پرائے چھوٹ گئے سب آس کھلونے ٹوٹ گئے پھر بھی ضدی من بالک کو بہلاتا ہے جانے کون یکساں تیور یکساں چہرے سب ہی دکھ دینے والے لیکن اس بستی میں بھی اک سکھ داتا ہے جانے کون





