Jafar Baluch
Jafar Baluch
Jafar Baluch
Ghazalغزل
اگرچہ آہ سر شام بھی ضروری ہے دل ستم زدہ آرام بھی ضروری ہے ستم شعار کی تفریح سامعہ کے لیے خروش مرغ تہ دام بھی ضروری ہے ضیائے کرمک شب تاب ہی نہیں کافی ستارۂ سحر انجام بھی ضروری ہے گراں بہا ہے مباحث کی شبنم آگینی اگرچہ برش صمصام بھی ضروری ہے بڑی ہے بات تو منہ بھی بڑا مہیا کر پھر اس کے ساتھ بڑا نام بھی ضروری ہے سکوت گل کا اگر ناگزیر ہے جعفرؔ تو عندلیب کا کہرام بھی ضروری ہے
agarche aah-e-sar-e-shaam bhi zaruri hai
وہ شخص میری رسائی سے ماورا بھی نہ تھا بشر بھی خیر نہ ہوگا مگر خدا بھی نہ تھا کہا شعور نے اس وقت حرف قم مجھ سے کہ لا شعور جگانے سے جاگتا بھی نہ تھا عجب تھی ساعت آغاز گلستاں بندی نوید گل بھی نہ تھی مژدۂ صبا بھی نہ تھا وہ ابتدائےسفر اب بھی یاد آتی ہے کسی میں میری رفاقت کا حوصلہ بھی نہ تھا غلط نما و غلط بیں ہیں بعض آئینے اس اعتراض کو نقاد مانتا بھی نہ تھا شہید ذوق تغزل تھا کم سخن جعفرؔ غزل کی بات نہ چلتی تو بولتا بھی نہ تھا
vo shakhs meri rasaai se maavaraa bhi na thaa
خزاں کے دوش پہ ہے فصل گل کا رخت ابھی کہ برگ و بار سے خالی ہے ہر درخت ابھی ابھی غموں سے عبارت ہے سر نوشت بشر کہ آسمان پرے ہے زمین سخت ابھی سمجھ شعاع بریدہ نہ صرف جگنو کو کرن کرن کا جگر ہوگا لخت لخت ابھی متاع جاں بھی اسے پیش کر چکا ہوں میں مرے رقیب کا لہجہ ہے کیوں کرخت ابھی تمام رات رہا مے کدہ نشیں جعفرؔ گیا ہے اٹھ کے یہاں سے وہ نیک بخت ابھی
khizaan ke dosh pe hai fasl-e-gul kaa rakht abhi
ہر ایک حال میں چلنے سے جس کو کام رہا وہ شخص قاعد یاران تیزگام رہا سفر علامت ہستی سفر دلیل حیات خوشا وہ لوگ سفر جن کا ناتمام رہا حیات گل کا حیات چمن ہے پیمانہ امر ہے پھول چمن کو اگر دوام رہا بیاض مہر نگل کر بھی رات رات رہی سیاہ کار کا چہرہ سیاہ فام رہا حیات و موت کے سنگم پہ جی رہے ہیں ہم ہمارا جشن طرب بھی غم التزام رہا زمانہ خود کو مخاطب سمجھ نہ لے میرا میں اپنے آپ سے دراصل ہم کلام رہا عجیب جعفرؔ فرخندہ جاں کا مشرب ہے کہ رند ہو کے بھی خوش بخت نیک نام رہا
har ek haal mein chalne se jis ko kaam rahaa
جان فکر و فن اب بھی عشق کی کہانی ہے لفظ ہیں نئے لیکن داستاں پرانی ہے زندگی کے افسانے ایک سے سہی لیکن جو مری کہانی ہے وہ مری کہانی ہے دیکھتا ہے رہ رہ کر منہ نگاہ والوں کا مصرعۂ غریب اپنا نقش بے زبانی ہے التفات فرمائیں یا تغافل اپنائیں مدعا حسینوں کا صرف جاں ستانی ہے پر خطا سہی جعفرؔ بے وفا سہی جعفرؔ خیر تم سہی حق پر بات کیا بڑھانی ہے
jaan-e-fikr-o-fan ab bhi ishq ki kahaani hai
کشاد ذہن و دل و گوش کی ضرورت ہے یہ زندگی ہے یہاں ہوش کی ضرورت ہے سنائی دے گی یقیناً ضمیر کی آواز مخاطبین سبک گوش کی ضرورت ہے اب احتیاج نہیں سرو قامتوں کی مجھے مجھے تو اب کسی ہم دوش کی ضرورت ہے خروش خم کا بھرم کھولنا ہے کیا مشکل بس ایک رند بلا نوش کی ضرورت ہے نگار صبح کے آنسو سمیٹنے کے لیے گلوں کو وسعت آغوش کی ضرورت ہے کہیں فقط متکلم سکوت کی حاجت کہیں تکلم خاموش کی ضرورت ہے
kushaad zehn-o-dil-o-gosh ki zarurat hai





