Jagdish Mehta Dard
Jagdish Mehta Dard
Jagdish Mehta Dard
Ghazalغزل
kaise hain ye insaan sanbhal kyon nahin sakte
کیسے ہیں یہ انسان سنبھل کیوں نہیں سکتے تدبیر سے تقدیر بدل کیوں نہیں سکتے دشوار بہت مرحلۂ شوق ہے لیکن گرگٹ کی طرح رنگ بدل کیوں نہیں سکتے معلوم تو ہو غوطہ زن بحر سیاست تخریب سے تعمیر میں ڈھل کیوں نہیں سکتے نالوں میں اثر چاہئے تاثیر فغاں میں دل لاکھ ہوں پتھر کے پگھل کیوں نہیں سکتے مانا ہے مرے یار ریاکار و غرض مند یاروں سے مگر کام نکل کیوں نہیں سکتے ہاں خام ابھی جذبۂ مشتاق ہے ورنہ لمحات غم و یاس کے ٹل کیوں نہیں سکتے اک بات بدلنے سے اگر بات بنے ہے دشوار ہے کیا بات بدل کیوں نہیں سکتے نسبت غم دوراں سے غم دل کو نہیں ہے آگے غم دوراں سے نکل کیوں نہیں سکتے گفتار میں ہیں تیز جو تلوار سے بڑھ کر کردار کی بانہوں میں سنبھل کیوں نہیں سکتے جذبات کی تفسیر ہوں پتھر تو نہیں ہوں آنسو مری آنکھوں سے نکل کیوں نہیں سکتے کرتے ہیں جو پابندیٔ دستور کی تلقیں وہ شعلۂ دستور سے جل کیوں نہیں سکتے
kis kis ko aaj roiye kyaa kyaa gayaa nahin
کس کس کو آج روئیے کیا کیا گیا نہیں کہتے ہیں لوگ گھر کوئی لوٹا گیا نہیں کہتے ہیں جس کو حاصل بہبودیٔ حیات ایسا کوئی سوال اٹھایا گیا نہیں میرا بھی ذکر خیر ہو ہر بزم ناز میں ایسا مرے نصیب میں لکھا گیا نہیں وہ بھی مرا چلن تھا کہ شیرازۂ حیات بکھرا کچھ اس طرح کہ سمیٹا گیا نہیں اب بھی کھنک نہیں ہے نوید بہار میں صحن چمن سے خوف خزاں کا گیا نہیں اب کیا کریں خلوص و مروت کے تذکرے حرص و ہوس سے دور زمانہ گیا نہیں ہر اک قدم پہ سایۂ اعمال ساتھ تھا کوئی عدم کے شہر میں تنہا گیا نہیں میں خود بخود بنا ہوں تماشائیوں سے پوچھ کوئی مجھے بنا کے تماشا گیا نہیں اب آپ کیا کریں گے مداوائے سوز غم منظر تو غم کا آپ سے دیکھا گیا نہیں جذبۂ صبر و شکر میرے کام آ گیا کیا تھا جو میرے بخت میں لکھا گیا نہیں سچ تو یہ ہے نصیب موافق نہیں مرا اے دردؔ دے کے وہ مجھے دھوکا گیا نہیں
gham ko uThaa ke duur khalaaon mein Daal do
غم کو اٹھا کے دور خلاؤں میں ڈال دو عمر رواں کو شیشہ و ساغر میں ڈال دو کیف تمام دو کہ غم لا زوال دو ارمان کوئی تو مرے دل کا نکال دو سایہ مرے وجود پہ زلفوں کا ڈال دو ورنہ صلاح چارۂ رنج و ملال دو اہل خرد تماشۂ بغض و عناد ہیں اہل خرد کو حد جنوں سے نکال دو ایسا نہ ہو کہ پھر کوئی اجڑے مری طرح اہل طلب کو شوق سے میری مثال دو شامل مرا لہو بھی ہے حسن جمال میں اک دن مجھے بھی دعوت جشن جمال دو اک جنبش نگاہ محبت نواز سے کانٹے مرے وجود سے غم کے نکال دو کرنا ہے وا ابھی تو مجھے عقدۂ حیات تھوڑی سی اور بھی مرے ساغر میں ڈال دو بہتر نہیں حضور تعلق خراب ہوں اچھا ہے بدگمانیاں دل سے نکال دو ایسی خوشی بھی کیا جسے حاصل نہیں ثبات غم مستقل جو ہوں مرے دامن میں ڈال دو یہ حسن یہ شباب کوئی دیر پا نہیں حسرت کوئی تو دردؔ کے دل کی نکال دو
khadd-o-khaal-e-hasrat-o-armaan badalnaa hai mujhe
خد و خال حسرت و ارماں بدلنا ہے مجھے سرحد سوز غم دل سے نکلنا ہے مجھے سوز غم سوز دروں سوز طلب یہ تو بتا اور تیرے ساتھ کتنی دور چلنا ہے مجھے سارا عالم چھان مارا ہے پتہ ملتا نہیں کون ہے آخر کہاں ہے جس سے ملنا ہے مجھے صاحب تفریق و شر کے پاؤں میں ہے فرش گل خیر کا حامی ہوں میں کانٹوں پہ چلنا ہے مجھے کوئی حیلہ وحشت ناکامیٔ ذوق طلب خود کو ابن الوقت کی صورت بدلنا ہے مجھے توڑ بھی جس کا ترے شاطر خیالوں میں نہ ہو وقت تیرے ساتھ ایسی چال چلنا ہے مجھے اک ذرا سی اور فرصت اے فریب درد دل گلشن ہستی میں گل بن کر مہکنا ہے مجھے
alam ki baat kyaa samjhein khushi kaa raaz kyaa jaanein
الم کی بات کیا سمجھیں خوشی کا راز کیا جانیں خبر اپنی نہیں جن کو کسی کا راز کیا جانیں جنہیں پیچیدگی حالات کی پابند رکھتی ہے وہ جانے بھی کسی کی زندگی کا راز کیا جانیں یہ عقدہ خاص ہے اس کو کوئی منصور کھولے گا خرد والے جنون آگہی کا راز کیا جانیں اسیران فریب آرائیٔ دیر و حرم آخر سلگتے عارضوں کی دل کشی کا راز کیا جانیں مناسب تھا یہ موضوع سخن بھی مے پرستوں سے جناب شیخ لطف مے کشی کا راز کیا جانیں جناب درد سے پوچھو کہ لطف دل لگی کیا ہے جو دل رکھتے نہیں دل کی لگی کا راز کیا جانیں
chaar din ki zindagi dozakh bhi hai jannat bhi hai
چار دن کی زندگی دوزخ بھی ہے جنت بھی ہے درد بھی ہے غم بھی ہے راحت بھی ہے عشرت بھی ہے زخم کھا کر بھولنا آساں نہیں ہوتا مگر زخم کھا کر بھول جانے کی ہمیں عادت بھی ہے گاہے گاہے زندگی کی سرد راتوں کے لیے مے کی خواہش بھی سلگتے جسم کی حاجت بھی ہے آپ نے اس سلسلہ میں غور فرمایا نہیں میری رسوائی سے پیدا آپ کی شہرت بھی ہے کل خدا معلوم کیا انداز ہو حالات کا آج تنہائی بھی ہے موسم بھی ہے فرصت بھی ہے دل لگا کر جان بھی دینا مری خصلت رہی دل لگا کر بھول جانا آپ کی فطرت بھی ہے دردؔ صاحب آپ کس غم سے پریشاں ہو گئے زندگی میں غم بھی ہے حسرت بھی ہے آفت بھی ہے





