
Jahan Ara Tabassum
Jahan Ara Tabassum
Jahan Ara Tabassum
Ghazalغزل
sar pe ab saaebaan nahin pyaare
سر پہ اب سائباں نہیں پیارے سو کہیں بھی اماں نہیں پیارے کون دیتا ہے یہ صدائیں اگر اپنا کوئی وہاں نہیں پیارے منزل عشق ہو نصیب نہ ہو یہ سفر رائیگاں نہیں پیارے نہ رہا خود پہ اعتبار مجھے تجھ سے تو بد گماں نہیں پیارے کار دل ہے سو اس لئے اس میں فکر سود و زیاں نہیں پیارے
niind meri hai khvaab logon ke
نیند میری ہے خواب لوگوں کے ہیں مرے سر عذاب لوگوں کے مفلسی کے کھنڈر سے اے مرے دل چل نکالیں شباب لوگوں کے گلستاں کو لہو سے سینچوں گی تب کھلیں گے گلاب لوگوں کے اپنی قسمت میں ٹوٹے تارے ہیں ماہتاب آفتاب لوگوں کے اک طرف التفات ہے تیرا اک طرف اضطراب لوگوں کے یوں ہی پہنچی نہیں میں دار تلک میں نے الٹے نقاب لوگوں کے اپنی اپنی ہیں درس گاہیں یہاں اپنے اپنے نصاب لوگوں کے
aksar jue ke khel mein haari gai huun main
اکثر جوے کے کھیل میں ہاری گئی ہوں میں غیرت کے نام پر بھی تو ماری گئی ہوں میں صیاد زیوروں میں جکڑتا رہا مجھے پنجرے میں ڈالنے کو سنواری گئی ہوں میں نا کردہ گناہوں کی سزا بھوگ رہی ہوں شعلوں سے کئی بار گزاری گئی ہوں میں کیوں پھر سے کٹہرے میں بلایا گیا مجھے کیوں پھر صلیب پر سے اتاری گئی ہوں میں ہے روح داغدار مرے اجلے جسم کی لہجے کی مار مار کے ماری گئی ہوں میں پھر سے تمہاری یاد دلائی گئی مجھے پھر سے اسی گلی سے گزاری گئی ہوں میں تنہائیاں تمہارا پتا پوچھنے لگیں جس دن سے زندگی سے تمہاری گئی ہوں میں میں آسماں پہ چاند ستاروں کی صف میں تھی تیرے لیے زمیں پہ اتاری گئی ہوں میں تم نے جو مسکرا کے تبسمؔ کہا مجھے تم پر تمہارے نام پہ واری گئی ہوں میں
ik lamha-e-visaal se aage nikal gai
اک لمحۂ وصال سے آگے نکل گئی میں خواہشوں کے جال سے آگے نکل گئی چہرے پہ اس کے رنج کے آثار دیکھ کر چپ چاپ ہر سوال سے آگے نکل گئی کچھ میں بھی نا شناس تھی اس کار خیر میں ہر رنج ہر ملال سے آگے نکل گئی ایسے غم حیات نے بانہوں میں لے لیا میں اپنی دیکھ بھال سے آگے نکل گئی کچھ دن ترے وصال نے مدہوش کر دیا میں خواہش مآل سے آگے نکل گئی تو بھی مرے وجود سے آزاد ہو گیا میں بھی ترے خیال سے آگے نکل گئی
khvaahish-e-vasl to be-kaar nahin kar saktaa
خواہش وصل تو بیکار نہیں کر سکتا وہ مری دید سے انکار نہیں کر سکتا ایک میں ہوں کہ تجھے پیار بہت کرتی ہوں ایک تو ہے کہ یہ اقرار نہیں کر سکتا وقت سے آگے نکلنے کی تمنا ہے مجھے تیز تو پاؤں کی رفتار نہیں کر سکتا تو مرے پیار میں دعوے تو بہت کرتا ہے برملا پیار کا اظہار نہیں کر سکتا کچھ بھی کر سکتا ہے لیکن وہ مرا دشمن جاں پیٹھ پیچھے وہ کبھی وار نہیں کر سکتا دیکھ سوہنی کی طرح تجھ کو بھی دے گا یہ دغا یہ گھڑا تجھ کو ندی پار نہیں کر سکتا جو مجھے روز یہ کہتا ہے تبسمؔ ہے مری وہ مرا دامن دل تار نہیں کر سکتا
sar-nigun saaraa jahaan hai maamtaa ke saamne
سرنگوں سارا جہاں ہے مامتا کے سامنے بد دعا میں ہے دعا اس کی دعا کے سامنے میں تمہارے سامنے اس واسطے خاموش ہوں فیصلہ ہو جائے گا اک دن خدا کے سامنے عزت و شہرت محبت سے یہ دامن بھر گیا شکر کے سجدے کروں رب کی عطا کے سامنے کر چکی ہے اب جہاں آرا تبسمؔ حوصلہ رکھ دیا ہے اب دیا لا کر ہوا کے سامنے کس قدر ظالم ہے یہ دنیا تعجب ہے مجھے بے وفا کہتی ہے مجھ کو بے وفا کے سامنے ایسا لگتا ہے کہ محفل مسکرانے لگ گئی آ کے جب وہ بیٹھتا ہے مسکرا کے سامنے ایک میں ہوں اور اک دھک دھک دھڑکتا دل مرا غیر کو تکتا ہے وہ مجھ کو بٹھا کے سامنے یار نظروں سے پرے تھا آئنہ بھی تھا پرے سج سنور کے آ گئی جان ادا کے سامنے کیا کہوں کیسے کہوں کس سے کہوں اور کیوں کہوں سوچتی ہوں چپ رہوں اس ناخدا کے سامنے آج نظروں سے ملیں نظریں تو وہ کہنے لگا پھر سے کیوں تم آ گئی ہو مسکرا کے سامنے پہلے اس نے کیا کہا پھر کیا کہا پھر کیا کہا میرا تو نے خط رکھا جب دل ربا کے سامنے ان اندھیروں سے نہ گھبرا تو کہ تیرے واسطے میں نے اپنا رکھ دیا ہے دل جلا کے سامنے لفظ بارش کی طرح مجھ پر برستے جائیں پھر شعر جب کہنے لگوں اس کو بٹھا کے سامنے جب تلک دنیا میں کاغذ اور قلم موجود ہیں با وفا لکھتی رہوں گی بے وفا کے سامنے کیوں ترا پیارا تبسمؔ آج پھیکا پڑ گیا ہار کیوں مانی ہے تو نے پھر جفا کے سامنے





