SHAWORDS
Jalal Aarif

Jalal Aarif

Jalal Aarif

Jalal Aarif

poet
9Ghazal

Ghazalغزل

See all 9
غزل · Ghazal

دور رہتے ہوئے نزدیک رگ جاں بھی رہے دشمن دل بھی رہے دل کے نگہباں بھی رہے ڈوب جاتے ہیں کنارے بھی کبھی موجوں سے اہل ساحل ذرا اندازۂ طوفاں بھی رہے ان کا انداز محبت بھی نرالا دیکھا مجھ میں شامل بھی رہے مجھ سے گریزاں بھی رہے میں ترے قرب کا وہ دور بھلاؤں کیسے تیرے گیسو مرے شانوں پہ پریشاں بھی رہے جس پہ لوگوں کو فرشتوں کا گماں ہو جائے کاش اس دور میں ایسا کوئی انساں بھی رہے ہم کو منظور نہیں تھی جو نمائش اپنی بزم میں مثل چراغ تہہ داماں بھی رہے غم جاناں کا تعلق تو ہے دل سے لیکن ہم وہی ہیں جو حریف غم دوراں بھی رہے دیدۂ دل سے محبت کا تقاضا ہے یہی تشنۂ دید رہے دید کا ارماں بھی رہے آج دامن میں بس اک دولت غم ہے عارفؔ ان کی الفت میں کبھی بے سر و ساماں بھی رہے

duur rahte hue nazdik-e-rag-e-jaan bhi rahe

2 views

غزل · Ghazal

مجھے جسم و جاں سے نہ کر جدا مجھے ذہن و دل سے مٹا نہ دے مجھے دے کے قرب کا حوصلہ میری تشنگی کو بڑھا نہ دے مری عظمتیں میری رفعتیں تری دین ہی تو ہیں اے خدا مجھے لا کے بام عروج پر کہیں پستیوں میں گرا نہ دے مرے ہر قدم پہ تو رکھ نظر مری راہ کا تو ہو پاسباں مرے نقش پا ہیں یہاں وہاں کہیں کوئی ان کو مٹا نہ دے یہ فصیل جس پہ کھڑا ہے تو یہ فصیل شہر غرور ہے مجھے خوف ہے یہی ہر گھڑی کوئی اس فصیل کو ڈھا نہ دے وہ چراغ جس سے ہے حق عیاں وہی ہوگا رہبر کارواں کوئی جھونکا باد سموم کا اسے دیکھ آ کے بجھا نہ دے میں جفا کروں تو وفا کرے تو جفا کرے میں وفا کروں یہی رسم رسم وفا رہے اسے میرے دوست بھلا نہ دے اے رفیق عارفؔ خستہ دل ہے یہ آخری مری التجا مجھے زندگی کی دعا نہ دے مجھے اتنی سخت سزا نہ دے

mujhe jism-o-jaan se na kar judaa mujhe zehn-o-dil se miTaa na de

1 views

غزل · Ghazal

عشق بے خود تھا بے حجاب آیا حسن ڈالے ہوئے نقاب آیا مہر بر لب کھڑے تھے اہل وفا بے سوال آپ کا جواب آیا ہم دکھائیں گے حشر میں ناصح کس کے حصے میں کیا حساب آیا پیار ان کا نظر کا دھوکا تھا پانی ڈھونڈا نظر سراب آیا چلو اچھے ہیں بخت بھی عارفؔ غم تو حصے میں بے حساب آیا

ishq be-khud thaa be-hijaab aaya

1 views

غزل · Ghazal

جہاں تم جلوہ گر ہوتے وہاں پر طور ہو جاتا زمیں کا ذرہ ذرہ نور سے معمور ہو جاتا میں تجھ کو دیکھ کر مستی میں ایسا چور ہو جاتا کہ دنیا کیا ہے اپنے آپ سے بھی دور ہو جاتا غنیمت ہے اچٹتی ہی نظر ان کی پڑی مجھ پر میں کیا کرتا نظر کا وار اگر بھرپور ہو جاتا ذرا سی جرأت کردار بھی ہوتی اگر ہم میں زمانہ رخ بدلنے کے لئے مجبور ہو جاتا فقط شہرت نہیں ہے مقصد شعر و سخن عارفؔ ذرا کوشش جو کرتا میں بہت مشہور ہو جاتا

jahaan tum jalva-gar hote vahaan par tuur ho jaataa

1 views

غزل · Ghazal

سفر حیات کا اب موت کے سراب میں ہے ہر ایک سانس ابھی پنجۂ عذاب میں ہے سناتی آئی ہے دنیا جسے ازل سے وہی ادھورے عشق کا قصہ مری کتاب میں ہے ہوا اڑا کے نہ لے جائے یہ متاع حیات ابھی تو بند یہ خوشبو گل حباب میں ہے یہ بوجھ لاد کے میں اور کتنی دور چلوں سنا ہے شہر وفا پردۂ سراب میں ہے شب فراق کی تنہائیوں کو ڈسنے دو کہ مہر صبح ابھی میرے رعب و داب میں ہے یہی تو جذبہ مجھے قتل گہہ میں لے آیا وہ بے نقاب تو ہوگا جو اب نقاب میں ہے سزا وفاؤں کی دی ہے خطا معاف ہوئی یہ الٹی گنتی بھی ان کے عجب حساب میں ہے سوار توسن ہستی ہوں اس سلیقے سے لگام ہاتھ میں عارفؔ نہ پا رکاب میں ہے

safar hayaat kaa ab maut ke saraab mein hai

1 views

غزل · Ghazal

اتنی خطا ہوئی کہ ہنسے تھے کسی کے ساتھ اب رو رہے ہیں بیٹھ کے ہم زندگی کے ساتھ راحت کے ساتھ دکھ ہے تو آنسو ہنسی کے ساتھ گہرا ہے کتنا غم کا تعلق خوشی کے ساتھ اپنا چلن بدلنے لگے وقت کی طرح ملتے تھے جو ہر اک سے بڑی سادگی کے ساتھ سائے سروں پہ موت کے منڈلاتے ہیں مگر ہم پھر بھی جی رہے ہیں علو ہمتی کے ساتھ کس کو تمہارے درد سے دل بستگی نہیں رونق ہے انجمن کی اسی روشنی کے ساتھ شاید وفا شناس نظر کا قصور ہے عارفؔ سلوک ان کا جو ہے بے رخی کے ساتھ

itni khataa hui ki hanse the kisi ke saath

1 views

Similar Poets