Jaleel Sherkoti
Jaleel Sherkoti
Jaleel Sherkoti
Ghazalغزل
havaadisaat ke maare saubaton mein pale
حوادثات کے مارے صعوبتوں میں پلے نگاہ گرم سے ترساں ہوں بجلیوں کے جلے وہ بت کدہ تھا جہاں سر جھکے چراغ جلے یہ مے کدہ ہے یہاں خم اٹھے شراب چلے یہ رقص انجم و مہتاب یہ سماں یہ سکوں یہ دور مے ابھی کچھ اور تھوڑی دیر چلے جو اپنے آپ ہی میں کردہ راہ منزل تھے رہ حیات میں کچھ ایسے رہنما بھی ملے بساط انجم و مہ ہو کہ میکدے کا خروش یہ بزم رنگ پہ آتی ہے اپنی رات ڈھلے ضیا وہ دی ہے مرے داغہائے دل نے کہ بس چراغ بزم تمنا نہ ایک رات جلے جو اپنی قوم کی کشتی کہ خود ڈبو ڈالے ہم ایسے راہبر قوم کے بغیر بھلے اسی تضاد میں مضمر ہے زندگی کا فسوں کہیں چراغ بجھے اور کہیں چراغ جلے خدا بچائے بس اس میر کارواں سے جلیلؔ جو کاٹ لیتا ہو خود اہل کارواں کے گلے
balaa-kash-e-gham-e-geti hai jaan-e-zaar abhi
بلا کش غم گیتی ہے جان زار ابھی حیات سر پہ اٹھائے ہوئے بار ابھی ملی کہاں ہے تجھے تیری رہ گزار ابھی ہے یاں سے دور بہت دور کوئے یار ابھی مہہ و نجوم فسردہ گل و سمن گریاں ہے کائنات مرے غم میں سوگوار ابھی کہوں تو کیسے کہوں اس کو دور عدل و عطا ہے دار و گیر ابھی جبر و اختیار ابھی بلائیں آئیں ستم پر ستم ہوئے لیکن بدل سکا نہ زمانہ مرا شعار ابھی ستارے ڈوب گئے شمعیں بجھ گئیں جل کر کھلی ہوئی ہے مگر چشم انتظار ابھی دیار دل میں نہ جانے ہے کب سے ویرانی ولیک شہر نگاراں میں ہے بہار ابھی اٹھو سنوارو نکھارو حیات نو بخشو عروس دہر کی آنکھوں میں ہے خمار ابھی نہ نام لو گے جفاؤں کا بھول کر بھی جلیلؔ نہیں ہوئے ہو جفاؤں سے ہمکنار ابھی
tavajjoh un ki kyaa kam ho gai hai
توجہ ان کی کیا کم ہو گئی ہے بلائے جاں شب غم ہو گئی ہے خرد کا نور کیا پھیلا جہاں میں دلوں کی روشنی کم ہو گئی ہے رہی ہوگی کبھی جنت یہ دنیا مگر اب تو جہنم ہو گئی ہے ایٹم زادوں یہ معراج ترقی حریف ابن آدم ہو گئی ہے شکست خواب تنظیم گلستاں دلیل عزم محکم ہو گئی ہے خذف کا مول جب سے بڑھ گیا ہے صدف کی آبرو کم ہو گئی ہے کبھی وقف طرب تھی زندگانی مگر اب صرف ماتم ہو گئی ہے
vafaa-kesh-o-vafaa-naa-aashnaa kyaa
وفا کیش و وفا نا آشنا کیا محبت میں بلاؤں کا گلہ کیا یہی دو ایک نغمے وہ بھی بے صوت شکستہ ساز ہوں میری صدا کیا نہ دیکھیں وہ ہمارے دل کی میت دل مرحوم کا اب خوں بہا کیا عداوت بجلیوں کی مول لے لی چمن میں دو گھڑی کو میں ہنسا کیا یہ عقل و آگہی کے خام دعوے کبھی سوچا بھی یہ تو نے کہ تھا کیا فقط اک زیر لب مبہم تبسم ہماری آرزو کیا مدعا کیا وفائیں عین ایمان محبت محبت میں وفاؤں کا صلہ کیا شناور کے لئے گرداب ساحل غم بے چارگیٔ ناخدا کیا ترا پرتو ہے جس کو حسن کہہ دیں مقابل ہو ترے ہے دوسرا کیا محبت کی یہ وہ منزل ہے جس میں دوائے درد و درد لا دوا کیا زمانے بھر نے نظریں پھیر لی ہیں ہوئے ہو تم بس اک ہم سے خفا کیا مجھے ساری خدائی مل گئی ہے دیا ہے تم نے درد لا دوا کیا جو سر مستی ہے ان آنکھوں میں پنہاں جلیلؔ اس دخت رز میں وہ مزا کیا
jab kabhi bhulne vaalon kaa salaam aataa hai
جب کبھی بھولنے والوں کا سلام آتا ہے کارواں عمر گریزاں کا ٹھہر جاتا ہے تیری یادوں کے دیے کرتا ہوں روشن شب کو تب کہیں جا کے دل زار سکوں پاتا ہے دیر یہ ہے وہ حرم ہے وہ صنم خانہ ہے دیکھنا ہے دل دیوانہ کدھر جاتا ہے ان سے کیا کیجیے بیگانہ وشی کا شکوہ وقت کے ساتھ ہر انسان بدل جاتا ہے تم نہیں ہوتے تو دل روٹھا ہوا رہتا ہے تم جو آتے ہو تو دیوانہ بہل جاتا ہے آہ اس وقفہ فرصت پہ دل و جان نثار آپ کا دھیان جب آتا ہی چلا جاتا ہے ترک وارفتگیٔ شوق کے با وصف ہنوز چاند سے زہرہ جمالوں کا سلام آتا ہے تو نے تدبیر مداوا نہ کی لیکن یہ نہ بھول بات رہ جاتی ہے اور وقت گزر جاتا ہے امتیاز من و تو جب نہیں رہتا ہے جلیلؔ وقت ایسا بھی محبت میں ضرور آتا ہے





