
Jalees Najeebabadi
Jalees Najeebabadi
Jalees Najeebabadi
Ghazalغزل
dil mein jo khalaa thaa bhar gayaa kyaa
دل میں جو خلا تھا بھر گیا کیا سیلاب جنوں اتر گیا کیا آنکھوں میں خواب جل رہے ہیں بارش کا سمے گزر گیا کیا شہروں میں رت جگے بہت ہیں ذہنوں کا سکوں بکھر گیا کیا آرام کی نیند سونے والو اندیشۂ ہم سفر گیا کیا ہمسائے میں بھوک جاگتی ہے میرا بھی ضمیر مر گیا کیا
kisi ki aankhon mein sail-e-aab nahin
کسی کی آنکھوں میں سیل آب نہیں زندگی تیرا بھی جواب نہیں ہم سے کہتی ہے شام تنہائی میں نہیں آج یا جناب نہیں دل کو زنجیر کر دیا ہم نے اب وہ پہلا سا پیچ و تاب نہیں منہ سے کچھ بول وقت تھوڑا ہے خامشی بات کا جواب نہیں جس سے روشن ہے دشت فکر و خیال ایک عورت ہے ماہتاب نہیں ساتھ ہے زندگی کے رنج فراق ایک دو دن کا یہ عذاب نہیں اپنی تعبیر اپنے پاس رکھو میری آنکھوں میں کوئی خواب نہیں رحم کر رحم رب موجودات بخششوں کا تری حساب نہیں
kyon sajaaein hain baam-o-dar baabaa
کیوں سجائیں ہیں بام و در بابا کون آتا ہے لوٹ کر بابا کب ملیں پھر کسے خبر بابا دیکھ لیں اس کو اک نظر بابا مار ڈالے گا یہ سفر بابا کیا ہوئے راہ کے شجر بابا چھوڑ مہر و وفا کے افسانے اب کوئی اور بات کر بابا دوستی عشق خون کے رشتے سب کے سب غیر معتبر بابا رات بھر میرے ساتھ جاگتی ہے اس کی یادوں کی دوپہر بابا نیند کی دشمنی ہے آنکھوں سے یاد آتا ہے اپنا گھر بابا
tum se bichhaD ke hanstaa-gaataa shahr lagaa ban-baas mujhe
تم سے بچھڑ کے ہنستا گاتا شہر لگا بن باس مجھے ناگن بن کر ڈستا ہے تنہائی کا احساس مجھے ہونٹوں کا امرت چاہا تھا تنہائی کا زہر ملا گلیوں گلیوں لیے پھری راتوں کو من کی پیاس مجھے میں کب کا جھوٹی رسموں کے بندھن توڑ کے آ جاتا لیکن روک رہا ہے تیری رسوائی کا پاس مجھے میرے لب پر تلخ حقائق میرے لب پر پیار کے گیت تجھ کو سکھ کی سیج ملی ہے اور ہجوم یاس مجھے تم کو پا کر دل کے آنگن میں آشا کے پھول کھلے آج تمہارا مہکا مہکا جسم لگا مدھوماس مجھے
safar aur dhuup kaa jangal ilaahi
سفر اور دھوپ کا جنگل الٰہی کوئی سایہ کوئی بادل الٰہی مری سوچیں مرے افکار زخمی مرے حرف و صدا گھائل الٰہی مسلسل آندھیاں اور میرے دل میں ترے ایقان کی مشعل الٰہی یہ آہوں اور کراہوں سے بھرا آج یہ اندیشوں میں ڈوبا کل الٰہی دماغوں میں دھواں باتوں میں بارود کوئی آسودگی کا پل الٰہی ہزاروں بستیاں ہیں محو فریاد کوئی ان مسئلوں کا حل الٰہی
ban ke meri ham-safar us ne oDhi dhuup
بن کے میری ہم سفر اس نے اوڑھی دھوپ روپ کا امرت پی گئی ناگن جیسی دھوپ کسی نے مہکی صبح لی کسی نے بھیگی رات ہم اپنے گھر لے چلے دنیا بھر کی دھوپ درد کا سورج سر پہ تھا آنکھیں تھیں بے نیند رات ہمارے صحن میں پہروں برسی دھوپ اپنے دشمن آپ ہیں کس کو دیں الزام سکھ کے سپنے بیچ کر ہم نے خریدی دھوپ کون کسی کا ہم سفر کون کسی کا میت اپنی اپنی چھانو ہے اپنی اپنی دھوپ اچھا تو اب الوداع اے یادوں کی چھاؤں کب سے میرا راستہ تکتی ہوگی دھوپ





