Jalilur Rahman Jaleel
Jalilur Rahman Jaleel
Jalilur Rahman Jaleel
Ghazalغزل
نہ ہو جو بس میں ایسے کام کا آغاز مت کرنا نہیں ہو قوت پرواز تو پرواز مت کرنا پرندے کو شکاری نے یہ کہہ کر قید میں ڈالا چہکنے کی اجازت ہے مگر آواز مت کرنا تری دولت کے ڈھیروں سے اگر نسلیں بگڑتی ہوں تو محنت کی کمائی کو بھی پس انداز مت کرنا وہ دولت ہو کہ شہرت ہو سب آنی جانی چیزیں ہیں نہ ملنے کا نہ کرنا غم ملیں تو ناز مت کرنا
na ho jo bas mein aise kaam kaa aaghaaz mat karnaa
کچھ ایسا کام بھی دنیا میں کرنا پڑتا ہے بکھر نہ جانے کی خاطر بکھرنا پڑتا ہے وہ سطح آب پہ موتی تلاش کرتا ہے اسے کہو کہ تہوں میں اترنا پڑتا ہے مزاج وقت بدلتا ہے جب مزاج اپنا ضعیف باپ کو بیٹوں سے ڈرنا پڑتا ہے بدن جواب بھی دے دے تو پیٹ کی خاطر طوائفوں کو ہر اک شب سنورنا پڑتا ہے بس ایک جست میں منزل نظر نہیں آتی کہیں تو چلنا کہیں تو ٹھہرنا پڑتا ہے یہ شاعری جسے آساں سمجھ رہے ہو تم لہو نچوڑ کے لفظوں میں بھرنا پڑتا ہے
kuchh aisaa kaam bhi duniyaa mein karnaa paDtaa hai





