SHAWORDS
Jamal Bharti

Jamal Bharti

Jamal Bharti

Jamal Bharti

poet
6Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

محبت حسن کا اعجاز بھی ہے محبت روح کی آواز بھی ہے کیا کرتا ہوں سجدے اپنے دل کو یہ تیری بارگاہ ناز بھی ہے تبسم بھی ہے غنچوں کی چٹک میں اور انداز شکست ساز بھی ہے سفینہ بھی ہے گرداب بلا میں مزاج ناخدا ناساز بھی ہے سنائیں ہم کسے افسانۂ غم یہاں کوئی شریک راز بھی ہے نظر ان کی نہ کیوں نغمے سنائے مرا دل گوش بر آواز بھی ہے کبھی یہ دل ہے صحرا کا نمونہ کبھی یہ دل گلستاں ساز بھی ہے کھنک اس کو نہ شیشے کی سمجھیے شکست دل کی یہ آواز بھی ہے

mohabbat husn kaa e'jaaz bhi hai

غزل · Ghazal

دل مضطر پہ اب ان کی عنایت ہوتی جاتی ہے کبھی تھی جس سے نفرت اس سے الفت ہوتی جاتی ہے زمانہ ہو گیا ترک محبت کو مگر اب بھی کسی کی یاد تسکین طبیعت ہوتی جاتی ہے وہ میری عرض غم پر آج کچھ شرمائے جاتے ہیں انہیں اپنی جفاؤں پر ندامت ہوتی جاتی ہے تمہارے روٹھ جانے سے میں یوں محسوس کرتا ہوں زمانہ بھر کو جیسے مجھ سے نفرت ہوتی جاتی ہے وہ پہلی برہمی اب نالۂ غم پر نہیں ہوتی غرور حسن کو ظاہر حقیقت ہوتی جاتی ہے میں اپنی اولیں لغزش نہ بھولا ہوں نہ بھولوں گا اسی کی یاد سے مجھ کو ندامت ہوتی جاتی ہے مرے اس جذبۂ صادق کی کچھ تو قدر کر ظالم تری بے گانگی مجھ پر قیامت ہوتی جاتی ہے کوئی اے فکر اس دیوانگی کی داد کیا دے گا شکایت کرتا جاتا ہوں ندامت ہوتی جاتی ہے

dil-e-muztar pe ab un ki 'inaayat hoti jaati hai

غزل · Ghazal

سکوت غم سے باقی ہے مگر رسم پیام اب بھی شب تاریک میں ہوں مہر و مہ سے ہم کلام اب بھی لب خاموش پر مانا کہ اب نالے نہیں آتے نگاہوں میں مگر باقی ہے انداز کلام اب بھی بھلا دینے کی پیہم کوششوں کے بعد بھی ناصح بڑھا دیتا ہے دل کی دھڑکنیں اس بت کا نام اب بھی نہیں وہ نسبت دیرینہ لیکن اس کو کیا کہیے وہی ہم ہیں وہی اگلی سی ہے رسم سلام اب بھی سنو عہد وفا کی عظمتوں کو بھولنے والو مری نظروں میں ہے عہد وفا کا احترام اب بھی تمہارے زلف و عارض کی قسم اب بھی جو میں چاہوں اشاروں سے بدل سکتا ہوں دور صبح و شام اب بھی کبھی آتے ہیں وہ تو احتراماً اٹھ ہی جاتا ہوں جناب شیخ کا باقی ہے دل میں احترام اب بھی

sukut-e-gham se baaqi hai magar rasm-e-payaam ab bhi

غزل · Ghazal

سمجھ سکا کوئی رونے نہ مسکرانے سے مرا فسانہ جدا تھا ہر اک فسانے سے شگفت خار خس و برگ ہے بجا لیکن بہار آئے گی پھولوں کے مسکرانے سے گزر رہا ہے کوئی کاروان برق و شرار الٰہی خیر غریبوں کے آشیانے سے بلا سے ایک ہی سجدہ ہو ان کے در پر ہو نصیب جاگ بھی سکتا ہے آزمانے سے زمیں پہ خاک کے ذرے قمر نہیں بنتے فلک پہ چند ستاروں کے جگمگانے سے ہر ایک شعر کی کاغذ پہ زندگی ہے جمالؔ ملے گا کیا تجھے محفل میں داد پانے سے

samajh sakaa koi rone na muskuraane se

غزل · Ghazal

جو رنگ تھے چمن پہ نہ جانے کدھر گئے کھلتی تھی جب کلی وہ زمانے کدھر گئے موجود دل ہے دل کی مگر راحتیں کہاں عنواں تو آج بھی ہے فسانے کدھر گئے آباد جن سے مہر و وفا کے دیار تھے ان بستیوں کے لوگ نہ جانے کدھر گئے کچھ بات ہے جو محفل ہستی خموش ہے مطرب کے دل نواز ترانے کدھر گئے کہتے ہی شعر پڑھنے لگے حضرت جمالؔ کہیے وہ آج حیلے بہانے کدھر گئے

jo rang the chaman pe na jaane kidhar gae

غزل · Ghazal

مدت کے بعد ان سے ملاقات ہو گئی اچھا ہوا تلافئ مافات ہو گئی محسوس روشنی میں ہوا رات ہو گئی اس درجہ تیز شدت جذبات ہو گئی نیچی نظر سے پرسش جذبات ہو گئی گو وہ رہے خموش مگر بات ہو گئی جس دور میں بھی عزم کو رہبر بنا لیا تاریخ اپنی حسب روایات ہو گئی ترک تعلقات کی بنیاد کچھ نہیں بیٹھے بٹھائے یوں ہی بس اک بات ہو گئی ناکام دل ہوا تو شرارہ سا جل اٹھا سہمی وفا تو تلخئ جذبات ہو گئی خاطر میں وہ اسے بھی نہ لائے کبھی جمالؔ وہ بے رخی جو جان شکایات ہو گئی

muddat ke baa'd un se mulaaqaat ho gai

Similar Poets