SHAWORDS
Jamal Naqvi

Jamal Naqvi

Jamal Naqvi

Jamal Naqvi

poet
6Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

ہر صدی میں قصۂ منصور دہرایا گیا سچ کہا جس نے اسے سولی پہ لٹکایا گیا ہم پہ ہی صدیوں سے ہیں ظلم و ستم جبر و الم اور ہمیں ہی مورد الزام ٹھہرایا گیا ہر زمانے میں ملے گا اک صداقت کا نقیب ہر زمانے میں اسے ہی طوق پہنایا گیا رخ بدل کر آندھیاں حالات کی اٹھتی رہیں عزم میں میرے نہ کوئی فرق بھی پایا گیا کیا سنائیں ہم شکست دل کا افسانہ جمالؔ یہ وہ شیشہ ہے جو ہر پتھر سے ٹکرایا گیا

har sadi mein qissa-e-mansur dohraayaa gayaa

غزل · Ghazal

مجھے کچھ اور ہی منظر دکھائی دیتا ہے یہ شہر خوں کا سمندر دکھائی دیتا ہے بنا لیا ہے جو ہم نے مکان شیشے کا ہر ایک ہاتھ میں پتھر دکھائی دیتا ہے اسی خطا پہ کہ اک دن لیا تھا نام ترا تمام شہر ستم گر دکھائی دیتا ہے جو ہم نہیں تو جمالؔ اور کوئی ہم جیسا غموں کی دھوپ میں اکثر دکھائی دیتا ہے

mujhe kuchh aur hi manzar dikhaai detaa hai

غزل · Ghazal

جھانک کر روزن دیوار کے باہر دیکھو گھر سے نکلو کبھی دنیا کا بھی منظر دیکھو تم جو ہر شخص پہ تنقید کیا کرتے ہو کبھی خود اپنے گریبان کے اندر دیکھو اب تو اپنوں نے بھی منہ موڑ لیا ہے ہم سے کتنا بگڑا ہے جمالؔ اپنا مقدر دیکھو

jhaank kar rauzan-e-divaar ke baahar dekho

غزل · Ghazal

کہاں سکون ہے دنیا میں زندگی کے لئے ہزار رنج و مصائب ہیں آدمی کے لئے اسے بھی کاتب تقدیر کا مذاق کہیں کہ غم کسی کے لئے ہے خوشی کسی کے لئے کسی کی بزم اندھیروں سے آشنا بھی نہیں کوئی غریب ترستا ہے روشنی کے لئے

kahaan sukun hai duniyaa mein zindagi ke liye

غزل · Ghazal

شرط الفت ہے کہ ہر ناز اٹھایا جائے لب پہ اک حرف شکایت بھی نہ لایا جائے آج تک جس نے ہر اک گل کی حفاظت کی ہے کیوں اسی خار سے دامن کو بچایا جائے شدت رنج و الم سے نکل آئیں آنسو کسی مجبور کو اتنا نہ ستایا جائے فائدہ کیا ہے بھلا عشق کی رسوائی سے کیوں یہ افسانہ زمانے کو سنایا جائے

shart-e-ulfat hai ki har naaz uThaayaa jaae

غزل · Ghazal

گزرتے لمحے بہت کچھ سکھا گئے مجھ کو میں ایک ذرہ تھا سورج بنا گئے مجھ کو ہزار رنج و مصائب تھے اور میں تنہا غم و الم کے یہ عفریت کھا گئے مجھ کو میں اپنے آپ کو بھولا ہوا تھا برسوں سے یہ آئنے مری صورت دکھا گئے مجھ کو

guzarte lamhe bahut kuchh sikhaa gae mujh ko

Similar Poets