SHAWORDS
Jamaluddin Nawaz

Jamaluddin Nawaz

Jamaluddin Nawaz

Jamaluddin Nawaz

poet
4Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

افق پہ جا کے ہمارا نمود ڈھونڈھے گا تمہارا ساز ہمارا سرود ڈھونڈھے گا قدم قدم پہ اسے دشت دے دغا لیکن جو تشنہ لب ہے وہ صحرا میں رود ڈھونڈھے گا فضا میں بکھری ہوئی کوئی شے تلاشے گا جو آگ بجھ گئی وہ اس کا دود ڈھونڈھے گا تجارتوں کے سلیقے سے ہوگا عشق اسے وہ دل تو دے گا مگر اس کا سود ڈھونڈھے گا فلک سے چلتے ہوئے اس کو یہ گمان نہ تھا زمیں پہ آ کے وہ اپنا وجود ڈھونڈھے گا

ufuq pe jaa ke hamaaraa numud DhunDhegaa

غزل · Ghazal

نگاہیں پھیر کر اپنی خودی سے رہے اک عمر خود میں اجنبی سے تعلق کیا مرا غم اور خوشی سے شکایت ہی نہیں ہم کو کسی سے قضا کے در پہ دستک دینے والا بہت کچھ چاہتا تھا زندگی سے وصال و ہجر کا احساس کیسا سبھی ہم سے ملے ہیں اجنبی سے خبر تم کو نہیں یاروں کہ میں نے لیا ہے کام کتنا بے حسی سے نہ جانے کس سے کہنا چاہتا ہوں وہ باتیں جو نہیں کہتا کسی سے ہے دل میں دفن اشکوں کا سمندر بدن کو آگ لگتی ہے نمی سے اندھیروں سے نبھانا چاہتا ہوں وہ رشتہ جو کبھی تھا روشنی سے

nigaahein pher kar apni khudi se

غزل · Ghazal

رسم مے خانہ نبھاتے ہیں چلے جاتے ہیں ہوش ہم اپنے گنواتے ہیں چلے جاتے ہیں صورت دل ہیں مسافر کسی ویرانے کے راستے ہم کو بلاتے ہیں چلے جاتے ہیں بارہا تیرے خیالوں کے تصور مجھ میں ایک تصویر بناتے ہیں چلے جاتے ہیں گرد اڑاتے ہوئے اکثر کئی طوفان سے اب دل کے صحراؤں میں آتے ہیں چلے جاتے ہیں آس باقی ہے مگر ایک ہراسانی بھی لوگ زنجیر ہلاتے ہیں چلے جاتے ہیں ہجر کی رات تری یاد کے جگنو آ کر جاگتے اور جگاتے ہیں چلے جاتے ہیں تیرگی سے کوئی آواز لگاتا ہے ہمیں ہم چراغوں کو بجھاتے ہیں چلے جاتے ہیں

rasm-e-mai-khaana nibhaate hain chale jaate hain

غزل · Ghazal

ابد تنہا اجل تنہا ملے سب بحر و بر تنہا جہاں تک ہو سکا کرتا رہا میں بھی سفر تنہا وہ ہی وہ ہے ادھر تنہا میں ہی میں ہوں ادھر تنہا یہ تنہائی عجب شے ہے خدا تنہا بشر تنہا بسر کرتا ہے مدت سے مرے جیسا کوئی مجھ میں اسے کہہ دو چلا جائے مجھے وہ چھوڑ کر تنہا میں تیری سمت آ جاؤں کہ جاؤں غیر کی جانب کشاکش میں ہوں الجھا درمیان خیر و شر تنہا یہ دنیا گاؤں میں بدلی ہوئے ہیں رابطے آساں مگر اس بھیڑ میں ہوتا گیا اک اک بشر تنہا یہ تنہائی یہ خاموشی یہ ویرانی یہ اندھیارا اسی محفل میں رہتا ہوں میں اب شام و سحر تنہا کھلے ہیں راز سب اس کے حقیقت ہے عیاں لیکن الجھتا ہے نہ جانے کیوں خیال بے خبر تنہا

abad tanhaa ajal tanhaa mile sab bahr-o-bar tanhaa

Similar Poets