Jameel Anzar
Jameel Anzar
Jameel Anzar
Ghazalغزل
کیوں قربتوں کے بیچ میں یہ فاصلہ ہوا لوٹا ہوں اس کے در سے یہی سوچتا ہوا بے چین کر گئی مجھے موجوں کی سرکشی ساحل کی ریت پر تھا بہت کچھ لکھا ہوا وہ جن کو اپنے قد کی بلندی پہ ناز تھا سایہ بھی دیکھ لیں وہ زمیں پہ پڑا ہوا ملتی نہیں ہے بھیک میں دولت سکون کی در پر امیر شہر کے ہے کیوں کھڑا ہوا ریشم سے خواب لے کے میں سو جاؤں گا ابھی دن کی مشقتوں سے بدن ہے تھکا ہوا منصور حق پرست سے احمد جمیلؔ تک ہر سلسلہ ہے دار و رسن سے ملا ہوا
kyon qurbaton ke biich mein ye faasla huaa
کیا خبر تھی ہم جہاں میں کیا سے کیا ہو جائیں گے تجھ کو پانے کی تمنا میں فنا ہو جائیں گے منتشر ہیں اس لیے محکوم ہیں غیروں کے ہم ایک ہو جائیں اگر فرما روا ہو جائیں گے عاقبت اپنی سنور جائے گی یہ سچ ہے جمیلؔ ہم اگر دنیا میں پابند وفا ہو جائیں گے
kyaa khabar thi ham jahaan mein kyaa se kyaa ho jaaeinge
صرف اتنا ہی نہیں علم و ہنر لگتا ہے شعر کہنے کے لیے خون جگر لگتا ہے کتنی آسانی سے تم کاٹ رہے ہو اس کو کتنی مشکل سے محبت کا شجر لگتا ہے مجھ کو ہر چہرے میں آتی ہے تری شکل نظر مجھ کو ہر رستہ تری راہ گزر لگتا ہے رزق اچھا ہو تو ایماں کو جلا ملتی ہے اور ہتھیلی کا ہر اک چھالا گہر لگتا ہے ہم نشینو مری تائید ہے لازم تم پر حق پہ قائم ہوں تمہیں ایسا اگر لگتا ہے اس کی قربت نے وہ فرحت مجھے بخشی ہے جمیلؔ ہر نفس اب مجھے خوشبو کا سفر لگتا ہے
sirf itnaa hi nahin 'ilm-o-hunar lagtaa hai





