Jameel Asghar
Jameel Asghar
Jameel Asghar
Ghazalغزل
دوست ہی کا نہیں دشمن کا بھی اپنا ہو جاؤں ایسا کردار بناؤں کہ میں سب کا ہو جاؤں مجھ کو رہنا ہے بہرحال اسی دنیا میں کٹ کے دنیا سے رہوں میں تو اکیلا ہو جاؤں ایک قطرہ سہی ہمت تو بہت ہے مجھ میں بہہ کے میں آگے نکل جاؤں تو دریا ہو جاؤں جسم پر تار نہیں روح بھی ننگی ہے یہاں غور سے دیکھ لوں دنیا کو تو اندھا ہو جاؤں ہیں مری قوم کی بہنیں مرے ماتھے کا غرور گھر سے بے پردہ جو نکلیں تو میں رسوا ہو جاؤں یہ عقیدہ مجھے بیمار نہیں رکھ سکتا ماں دعا پڑھ کے اگر پھونک دے اچھا ہو جاؤں
dost hi kaa nahin dushman kaa bhi apnaa ho jaaun
ہمیں بھی شوق ہے دیکھیں اگر دکھائی دے رسولوں جیسا کوئی معتبر دکھائی دے یہاں بھی قحط پڑا ہے اب آدمیت کا خدا کرے کہ کوئی چارہ گر دکھائی دے یہ کس کی لاش کو ٹکڑوں میں کر دیا تقسیم بدن زمین پہ نیزے پہ سر دکھائی دے بس ایک رات میں دیوار چاٹنی ہے ہمیں فصیل شب جو گرے تو سحر دکھائی دے ابھی حیات کو فرصت نہیں ہے دنیا سے بڑھاپا آئے تو مسجد کا در دکھائی دے
hamein bhi shauq hai dekhein agar dikhaai de
دار پر کھینچے گئے آگ میں بھی ڈالے گئے بارہا وقت کے نیزوں پہ اچھالے بھی گئے کوئی الزام نہ تھا حسن کے دیوانوں پر بے سبب شہر زلیخا سے نکالے بھی گئے پھر ہوا یوں کہ چراغوں سے دھواں اٹھنے لگا سانس اکھڑی تو شب غم کے اجالے بھی گئے اب بناتے نہیں مٹی کے گھروندے بچے وہ زمانہ بھی گیا کھیلنے والے بھی گئے پھر تو بس موت کے ہاتھوں پہ ہی بیعت ہوگی گر کسی وقت کبھی گھر سے نکالے بھی گئے
daar par khinche gae aag mein bhi Daale gae
قلم کی نوک سے دشمن پہ وار کرنا پڑا ہمیں جواب میں لفظوں کو دھار کرنا پڑا لہو سے آگ سے سیلاب سے حوادث سے غزل بنانے کا فن اختیار کرنا پڑا جہاد کیا ہے یہ جا کر کسی فقیر سے پوچھ کہ خواہشوں کو اسے سنگ سار کرنا پڑا حیات قرض نہیں تھی کہ خود کشی کرتے ہمیں تو تیر کے دریا کو پار کرنا پڑا بھرم بنا لیا دیوار کی سفیدی سے کچھ ایسے گھر کی فضا کو بہار کرنا پڑا
qalam ki nok se dushman pe vaar karnaa paDaa





