Jameel Hamdam
کس سے پیمان وفا باندھتے ہو وقت کا آب رواں ہے یہ تو کوئی سن لے گا تو چرچا ہوگا اپنے دل سے بھی یہ باتیں نہ کرو کوئی بجتی ہوئی شہنائی ہے جھانک کر پردۂ گل میں دیکھو جب ستاروں کے کنول کھلتے ہیں جھلملاتا ہے تمہارا پرتو دل کے آنگن میں کرن ناچے گی چاندنی رات میں آواز تو دو زخم پھر سے نہ ہرے ہو جائیں مجھ سے یوں پیار کی باتیں نہ کرو آپ کا ہمدم دیرینہ ہوں سر اٹھاؤ مری جانب دیکھو
kis se paimaan-e-vafaa baandhte ho
1 views