Jameel Qureshi
Jameel Qureshi
Jameel Qureshi
Ghazalغزل
روایتوں کو کبھی تم اساس مت کرنا میں لوٹ آؤں گا ہرگز یہ آس مت کرنا گرفت خواب سے جس نے رہائی دی تم کو وہ خود بھی جاگتا ہوگا قیاس مت کرنا بکھر رہے ہو تو پھر ٹوٹتا بھی اندر سے شکستگی کو تم اپنا لباس مت کرنا کیا ہو جاں سے گزرنے کا فیصلہ جس میں اس ایک لمحے کو صرف ہراس مت کرنا اگرچہ ہاتھ میں ہو کاسۂ گدائی بھی خدا کے بعد کسی کی سپاس مت کرنا خزاں کے وار سے گھبرا کے اے جمیلؔ کبھی شگفت گل کے لیے التماس مت کرنا
rivaayaton ko kabhi tum asaas mat karnaa
وہ سب کے دل میں بسا تھا حبیب ایسا تھا تمام شہر ہی میرا رقیب ایسا تھا لہو لہو تھا اجالا سحر کے ماتھے پر افق سے جھانکتا سورج صلیب ایسا تھا متاع درد و الم بھی تو اس کے پاس نہ تھی مجھے وہ کیا عطا کرتا غریب ایسا تھا بنا بنا کے میں باتیں ہزار کرتا مگر وہ مجھ سے جیت ہی جاتا خطیب ایسا تھا مرا خلوص وہ ٹھکرا گیا حقارت سے میں ہاتھ ملتا رہا بد نصیب ایسا تھا تمام عمر جلاتا رہا وجود مرا وہ ایک برف کا پیکر عجیب ایسا تھا
vo sab ke dil mein basaa thaa habib aisaa thaa
دراز دست کو دست عطا کہیں نہ ملا بخیل شہر تھا حاجت روا کہیں نہ ملا فصیل شب پہ سحر کا دیا جلاتا کون کہ کوئی شخص مجھے جاگتا کہیں نہ ملا لہو کی آگ تھی روشن ہر اک ہتھیلی پر کسی بھی ہاتھ پہ رنگ حنا کہیں نہ ملا گرا خود اپنی نظر سے تو پوچھتا پھر کون خودی گنوائی تو مجھ کو خدا کہیں نہ ملا سبھی تھے اپنے خداؤں سے بد گماں شاید کسی زبان پہ حرف دعا کہیں نہ ملا
daraaz-dast ko dast-e-ataa kahin na milaa





