Jameel Sahar
دھوپ میں چھاؤں میں موجود ہے عنصر میرا ایک پیکر میں کہاں قید ہے پیکر میرا عکس پر اس کے فدا ہے دل مضطر میرا میں نے دیکھا بھی نہیں ہے ابھی دلبر میرا کھڑکیاں بند رکھوں کھولوں نہ دروازہ بھی کوئی حق ہی نہیں جیسے میرے گھر پر میرا منقطع ہو گیا ہر رابطہ ان سے پھر بھی ذکر اب بھی وہ کیا کرتے ہیں اکثر میرا میری کشتی کو کناروں نے ڈبویا آخر ہاتھ میں ہاتھ لیا اس نے بھی بڑھ کر میرا دھوپ ڈھلنے ہی کو تھی رات کے سائے میں سحرؔ آ کے کس موڑ پہ بگڑا ہے مقدر میرا
dhuup mein chhaanv mein maujud hai unsur meraa