Jameel Shadab
phuul khile hain
پھول کھلے ہیں انگنائی میں درد ڈھلے ہیں شہنائی میں نام ہوا ہے رسوائی میں گہر ملیں گے گہرائی میں دل دھڑکے ہے تنہائی میں بندھن ٹوٹے انگڑائی میں زخم ہرے ہیں پروائی میں ڈوبے رخ کی رعنائی میں ہوش کہاں ہے سودائی میں