Jameela Khatoon Tasneem
Jameela Khatoon Tasneem
Jameela Khatoon Tasneem
Ghazalغزل
دنیا کی کشاکش میں پھنس کر دل غم سے بچانا پڑتا ہے مرجھائی ہوئی کلیوں کو یہاں ہنس ہنس کے کھلانا پڑتا ہے یوں اپنی تمنا مضطر ہے یوں اپنی محبت ویراں ہے کانٹے سے بچھے ہیں ہر جانب پلکوں سے اٹھانا پڑتا ہے کیا عالم ہے بے ہوش میں بھی وا اہل نظر کی نظریں ہیں محفل میں کسی کے دامن سے دامن کو بچانا پڑتا ہے جب چاندنی شب میں یاد کسی ظالم کی نہیں جینے دیتی پھر راز محبت گھبرا کر تاروں سے بتانا پڑتا ہے یوں درد کی ٹیسیں اٹھتی ہیں یوں صبر کا داماں چھٹتا ہے ماضی کا فسانہ پھر دل سے ڈر ڈر کے بھلانا پڑتا ہے کس طنز سے وہ فرماتے ہیں کیا سہل ہے الفت کی منزل یاں جان گنوانی پڑتی ہے یاں اشک بہانا پڑتا ہے منجدھار میں اپنے ہاتھوں سے تسنیمؔ ڈبو کر آہ یہاں ناکام محبت کشتی کو پھر پار لگانا پڑتا ہے
duniyaa ki kashaakash mein phans kar dil-e-gham se bachaanaa paDtaa hai
نظر ملا کے نظر سے گرا دیا تم نے مجھے بتاؤ خدارا یہ کیا کیا تم نے مجھی پہ وار کیا اور مجھی کو بھول گئے مری وفا کا یہ اچھا صلہ دیا تم نے نہ اپنے طرز ستم پر نگاہ کی تم نے ہماری بات کو اتنا بڑھا دیا تم نے تم آ کے کیا متبسم ہوئے لحد پر مری چراغ گور غریباں جلا دیا تم نے ہمیں تو ہوش نہیں تم کو علم ہوگا ضرور کہ کس قصور پہ دل سے بھلا دیا تم نے کسی کے جور کا تسنیمؔ یہ فسانہ ہے کہ جس کو نظم بنا کر سنا دیا تم نے
nazar milaa ke nazar se giraa diyaa tum ne
وہ اضطراب شب انتظار ہوتا ہے کہ ماہتاب کلیجہ کے پار ہوتا ہے فسردہ آپ نہ ہوں دیکھ کر مرا داماں یہ بد نصیب یوں ہی تار تار ہوتا ہے نہیں کچھ اور محبت کی چوٹ ہے ہمدم یہ درد دل میں کہیں بار بار ہوتا ہے تری تلاش سے غافل نہیں ترا وحشی زوال ہوش میں بھی ہوشیار ہوتا ہے ہو ان کا وعدۂ فردا غلط سہی لیکن میں کیا کروں کہ مجھے اعتبار ہوتا ہے
vo iztiraab shab-e-intizaar hotaa hai
زندگی کو ایک بحر بیکراں پاتی ہوں میں ان کے ہاتھوں مٹ کے عمر جاوداں پاتی ہوں میں خود بخود دل ہو گیا دونوں جہاں سے بے نیاز اب زمین عشق گویا آسماں پاتی ہوں میں چھٹ پھٹے سے دل بجھا رہتا ہے تیری یاد میں چاندنی راتوں میں اشکوں کو رواں پاتی ہوں میں سیکڑوں سجدے تڑپتے ہیں جبین شوق میں اے حقیقت تیرا نقش پا کہاں پاتی ہوں میں اب بھی آنسو بہہ نکلتے ہیں کسی کی یاد میں عندلیب زار کو جب نوحہ خواں پاتی ہوں میں اپنا اے تسنیمؔ اس دنیا سے گھبراتا ہے دل یاں کی ہر شے کو فقط وہم و گماں پاتی ہوں میں
zindagi ko ek bahr-e-be-karaan paati huun main
جب ہماری زندگی کا ختم افسانہ ہوا اس گھڑی صد حیف ان کا خیر سے آنا ہوا آپ تو ہنستے رہے ہم رو کے رسوا ہو گئے شمع تو چلتی رہی پامال پروانہ ہوا میری بربادی کے چرچے سن کے کس کس ناز سے پوچھتے ہیں مسکرا کر کون دیوانہ ہوا دہر میں اب مسکرانے کی ہمیں فرصت نہیں دل ہجوم غم بنا غم آہ افسانہ ہوا تو نہ ہوتا تو زمین و آسماں کچھ بھی نہ تھا تیرے قدموں کی بدولت میرا کاشانہ ہوا اے کرم فرما تجھے ہو علم اس کا یا نہ ہو کون تجھ میں کھو کے اور پھر خود سے بیگانہ ہوا ہم ہی اک تنہا نہیں تسنیمؔ مستانے ہوئے ان کی نظریں کیا اٹھیں ہر رند مستانہ ہوا
jab hamaari zindagi kaa khatm afsaana huaa
دل مضطر تری فرقت میں بہلایا نہیں جاتا کسی پہلو سے یہ نادان سمجھایا نہیں جاتا نمک پاشی مرے زخموں پہ یہ کہہ کہہ کے کرتے ہیں ذرا سی بات میں یوں اشک بھر لایا نہیں جاتا ڈراتا کیوں ہے اے ناصح محبت کی کشاکش سے پھنسا کر دل کو اس کوچے سے کترایا نہیں جاتا مری زلفیں ہٹا کر رخ سے وہ کہتے ہیں ہنس ہنس کر اندھیری رات ہے ایسے میں شرمایا نہیں جاتا غم و آلام نے اس درجہ ہم کو کر دیا گھائل خود اپنی داستاں کو ہم سے دہرایا نہیں جاتا بڑی اس بیکسی کی منزلیں پر ہول ہوتی ہیں کسی سے جب کوئی تسنیمؔ اپنایا نہیں جاتا
dil-e-muztar tiri furqat mein bahlaayaa nahin jaataa





