SHAWORDS
J

Jarnail Singh Maan Afshar

Jarnail Singh Maan Afshar

Jarnail Singh Maan Afshar

poet
5Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

ہم نے سیکھے نہیں عاشقی کے ہنر کام آتے رہے سادگی کے ہنر ہونٹ عارض ادائیں ہیں سب اک طرف اک طرف ہیں مری تشنگی کے ہنر دائمی ہے ضرورت ہمیں نور کی بھولیے پر نہیں تیرگی کے ہنر بڑھ رہی ہے طلب دن بہ دن موت کی بے اثر ہو رہے زندگی کے ہنر خود فرشتے سفارش کریں گے تری سیکھ لے تو فقط بندگی کے ہنر وصل کے درمیاں ہے پہ نردوش ہے تم کناروں سے پوچھو ندی کے ہنر چاک دل کو رکھا خوں قلم میں بھرا پھر بھی آئے نہیں شاعری کے ہنر مسکراہٹ میں اس نے چھپایا ہے غم دیکھ افشارؔ کی بے بسی کے ہنر

ham ne sikhe nahin 'aashiqi ke hunar

غزل · Ghazal

تیر کھینچا ہے تری نظروں نے میرا دل ہدف ہے دیکھنا تم چوک مت جانا بڑا مشکل ہدف ہے اک کنارا تھا میسر ڈوبنے سے قبل لیکن باوفا کشتی کا تو مخصوص اک ساحل ہدف ہے سرحدوں پر جان لینا ہی فقط قانون ہے سو ہے ہدف قاتل کبھی یا پھر کبھی قاتل ہدف ہے یا کسی دل پر لگے گا یا کسی دل کو لگے گا شعر ہے بے چوک میرا اور یہ محفل ہدف ہے ایک بس یہ وار میرا جا لگے بالکل ٹھکانے میرے ہونٹوں کے لیے تیرے لبوں کا تل ہدف ہے

tiir khinchaa hai tiri nazron ne meraa dil hadaf hai

غزل · Ghazal

آ گئے کیسے عجب دن روشنی کے ہیں چراغ راہ خادم تیرگی کے چال اس کی جب کبھی میں بھانپ پایا پینترے فوراً ہی بدلے زندگی کے مل نہیں سکتے ہیں پھر بھی ساتھ یوں ہیں دو کنارے ہم ہوں جیسے اک ندی کے ہر گلی خون جگر ٹپکا رہے ہو کون سے یہ ہیں طریقے رہبری کے اب نہیں افشارؔ کو ڈر دشمنی کا جب سے اصلی رنگ دیکھے دوستی کے

aa gae kaise 'ajab din raushni ke

غزل · Ghazal

کم سے کم بھی اگر ہم ارادہ کریں عشق پھر بھی تمہیں ہم زیادہ کریں آج آمادہ ہیں وہ عقوبت پہ گر ہے یہ لازم کہ دل ہم کشادہ کریں ساری پرتیں محبت کی کھلنے لگیں شاعروں سے اگر استفادہ کریں

kam se kam bhi agar ham iraada karein

غزل · Ghazal

تخیل کے کماں سے یوں سخن کا تیر نکلا ہے کہ میرا شعر تو پتھر دلوں کو چیر نکلا ہے وہی اک خواب بے تعبیر جو آنکھوں میں آیا تھا وہ بن کے اشک ان پلکوں سے پر تاثیر نکلا ہے وہ قصہ عشق کا تحریر ہے دیوار پر لیکن وجود اس کا حقیقت میں پس تعمیر نکلا ہے سمجھ جس کو رہے تھے ہم فقط دو چار دن کا غم وہ ایسا ہجر ہے جو مسئلہ گمبھیر نکلا ہے یہاں جو کر رہا تھا تبصرا کردار پر میرے مرے آتے ہی بیچارہ بلا تاخیر نکلا ہے دل افشارؔ پر اس نے اک ایسا اسم پھونکا ہے کہ سینے کے قفس سے توڑ کر زنجیر نکلا ہے

takhayyul ke kamaan se yuun sukhan kaa tiir niklaa hai

Similar Poets