
Jatinder Parwaaz
Jatinder Parwaaz
Jatinder Parwaaz
Ghazalغزل
vo nazron se meri nazar kaaTtaa hai
وہ نظروں سے میری نظر کاٹتا ہے محبت کا پہلا اثر کاٹتا ہے مجھے گھر میں بھی چین پڑتا نہیں تھا سفر میں ہوں اب تو سفر کاٹتا ہے یے ماں کی دعائیں حفاظت کریں گی یے تعویذ سب کی نظر کاٹتا ہے تمہاری جفا پر میں غزلیں کہوں گا صنع ہے ہنر کو ہنر کاٹتا ہے یے فرقہ پرستی یے نفرت کی آندھی پڑوسی پڑوسی کا سر کاٹتا ہے
yunhi udaas hai dil be-qaraar thoDi hai
یوں ہی اداس ہے دل بے قرار تھوڑی ہے مجھے کسی کا کوئی انتظار تھوڑی ہے نظر ملا کے بھی تم سے گلہ کروں کیسے تمہارے دل پے مرا اختیار تھوڑی ہے مجھے بھی نیند نہ آئے اسے بھی چین نہ ہو ہمارے بیچ بھلا اتنا پیار تھوڑی ہے خزاں ہی ڈھونڈھتی رہتی ہے در بہ در مجھ کو مری تلاش میں پاگل بہار تھوڑی ہے نہ جانے کون یہاں سانپ بن کے ڈس جائے یہاں کسی کا کوئی اعتبار تھوڑی ہے
sahmaa sahmaa har ik chehra manzar manzar khuun mein tar
سہما سہما ہر اک چہرہ منظر منظر خون میں تر شہر سے جنگل ہی اچھا ہے چل چڑیا تو اپنے گھر تم تو خط میں لکھ دیتی ہو گھر میں جی گھبراتا ہے تم کیا جانو کیا ہوتا ہے حال ہمارا سرحد پر بے موسم ہی چھا جاتے ہیں بادل تیری یادوں کے بے موسم ہی ہو جاتی ہے بارش دل کی دھرتی پر آ بھی جا اب آنے والے کچھ ان کو بھی چین پڑے کب سے تیرا رستہ دیکھیں چھت آنگن دیوار و در جس کی باتیں اماں ابو اکثر کرتے رہتے ہیں سرحد پار نہ جانے کیسا وہ ہوگا پرکھوں کا گھر
gum-sum tanhaa baiThaa hogaa
گم سم تنہا بیٹھا ہوگا سگریٹ کے کش بھرتا ہوگا اس نے کھڑکی کھولی ہوگی اور گلی میں دیکھا ہوگا زور سے میرا دل دھڑکا ہے اس نے مجھ کو سوچا ہوگا میں تو ہنسنا بھول گیا ہوں وہ بھی شاید روتا ہوگا ٹھنڈی رات میں آگ جلا کر میرا رستہ تکتا ہوگا





