SHAWORDS
Jauhar Abbas

Jauhar Abbas

Jauhar Abbas

Jauhar Abbas

poet
5Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

kab tak dimaagh-e-husn ki nakhvat na jaaegi

کب تک دماغ حسن کی نخوت نہ جائے گی ایسے تو رائیگاں یہ عقیدت نہ جائے گی کیکر کی شاخ نے یہ لکھا فرق قیس پر برتی ترے جنوں سے رعایت نہ جائے گی محجوب سا کھڑا ہوں ہتھیلی پہ دل لیے اس رہ سے اب کبھی یہ زیارت نہ جائے گی دفنائیں ہم کو دوست کتاب و قلم سمیت زیر لحد بھی زیست کی عادت نہ جائے گی مسکن کیے ہوئے ہے کسی کی دعا یہاں آنکھوں سے جیتے جی تو یہ حیرت نہ جائے گی جوہرؔ گلے لگو کہ ملاؤ ہزار ہاتھ لکھ لو دل شقی سے کدورت نہ جائے گی

غزل · Ghazal

faqat khudi se jise pyaar hai agar hai bhi

فقط خودی سے جسے پیار ہے اگر ہے بھی ہمیں اسی سے سروکار ہے اگر ہے بھی وہ بے مثال جو تکمیل کر سکے میری جہان خواب کے اس پار ہے اگر ہے بھی بھرے جہاں میں ستاروں میں سب زمانوں میں بس ایک تو مرا معیار ہے اگر ہے بھی اب اور بیچ میں حائل نہیں ہے کوئی حجاب بس ایک پردۂ پندار ہے اگر ہے بھی ہمارے شعر سے مت منہ پھرا کہ اپنے پاس یہی سلیقۂ اظہار ہے اگر ہے بھی جناب شاہ تغافل تو کیا دل بیکس اسی سزا کا سزاوار ہے اگر ہے بھی

غزل · Ghazal

ik tabassum kaa e'tibaar kiyaa

اک تبسم کا اعتبار کیا عقل نے سادگی سے پیار کیا اصل سے واہمہ تراشا اور پھر اسی واہمے کو یار کیا دیکھتے ہو ہماری زود حسی چشم آہو نے دل شکار کیا دل پہ جائز ترا اجارہ تھا تو نے کس خوف سے فرار کیا اب کوئی جستجو نہیں بھاتی یوں تری جستجو نے خوار کیا اس کی چاہت عجیب تھی جس نے میرے بجھنے کا انتظار کیا شکر پروردگار اس نے مجھے میری ہستی کا غم گسار کیا میرؔ صاحب کو منہ دکھانا تھا مذہب عشق اختیار کیا یہ غزل کیا کہی کہ پھر جوہرؔ ماہ پارہ کو بیقرار کیا

غزل · Ghazal

jaan-e-sukhan bhi muddaaa-e-ruh bhi

جان سخن بھی مدعائے روح بھی وہ شخص ہے مداح بھی ممدوح بھی ذوق تمنا سے ترے سرشار دل تیر تغافل سے مگر مجروح بھی دل کو اذیت دے کے یوں سرکش نہ ہو طوفاں نہ لے آئے کہیں یہ نوح بھی اندھیر ہے مال غنیمت جان کر لوٹی گئی ہے عصمت مفتوح بھی کس خانماں برباد میں پھونکا ہمیں یہ سوچتی ہوگی ہماری روح بھی

غزل · Ghazal

rashk karte hain shanaasaa bhi muqaabil ki tarah

رشک کرتے ہیں شناسا بھی مقابل کی طرح کاش کوئی مرے پہلو میں رہے دل کی طرح شاید اک روز مجھے خود سے خدا مل جائے ایستادہ ہوں در ذات پہ سائل کی طرح مشک آہو سے مہکنے لگا دل کا جنگل یاد کے دشت میں اترا جو تو محمل کی طرح ایسے بیزار محبت کے ستم کیا کہنا پیش آئے جو مرے شوق سے مشکل کی طرح چشم عبرت کوئی رکھتا تو دکھاتے اس کو شہر جاں میں کئی آثار ہیں بابل کی طرح جبکہ منزل نے تمہیں ڈھونڈ لیا ہے جوہرؔ کیوں بھٹکتے ہو اب آوارۂ منزل کی طرح

Similar Poets