Jauhar Bilgrami
Jauhar Bilgrami
Jauhar Bilgrami
Ghazalغزل
milaa na kaun-o-makaan mein to laa-makaan dekhaa
ملا نہ کون و مکاں میں تو لا مکاں دیکھا پر اس کو دیکھا نہ اس کا کوئی نشاں دیکھا جو اس میں دیکھا پریشان و خستہ جاں دیکھا زمین کوچۂ قاتل کو آسماں دیکھا جب اپنے دل میں ترا جلوہ ضو فشاں دیکھا نہ اس میں پھر غم دنیا کو میہماں دیکھا ہر اشک چشم کو تو دل کا ترجماں دیکھا دم غریب کو ہی دل کا رازداں دیکھا عروج حسن کو حاصل ہے عشق کے دم سے جہاں میں عشق کا پھر بھی نہ قدرداں دیکھا دل آزما ہے زبس عشق کا زمانہ بھی قدم قدم پہ محبت میں امتحاں دیکھا شگفتہ ہیں گل زخم جگر خزاں میں بھی سدا بہار کھلا دل کا بوستاں دیکھا وہ تنکے نذر ہوئے برق و باد صرصر کے اسیر جب سے ہوئے پھر نہ آشیاں دیکھا ہے دفن جو تری تصویر بے کسی جوہرؔ ترے مزار پہ حسرت کو نوحہ خواں دیکھا
gardish-e-chashm judaa gardish-e-paimaana judaa
گردش چشم جدا گردش پیمانہ جدا مستیٔ بادہ جدا عالم مستانہ جدا لطف محفل نہیں ساقی کے چلے جانے سے مے سے شیشہ ہے جدا شیشہ سے پیمانہ جدا ایک ہی نور سے معمور یہ دونوں گھر ہیں نہ تو کعبہ ہے جدا اور نہ بت خانہ جدا دل تری نذر تو سر ہے تری شمشیر کی نذر تیرا نذرانہ جدا تیغ کا نذرانہ جدا زاہدا جوہرؔ مے کش سے تجھے کیا نسبت تیرا پیمانہ جدا اس کا ہے پیمانہ جدا
ishq ke maajraat yaad nahin
عشق کے ماجرات یاد نہیں جز ترے کوئی بات یاد نہیں یاد ہے قصۂ الف لیلیٰ سبق دینیات یاد نہیں لگی بازی تھی حسن و الفت میں کس نے پھر کھائی مات یاد نہیں گرم رہتی تھی جن سے بزم عیش اب تو وہ تذکرات یاد نہیں منہ لگی جب سے دخت رز جوہرؔ لطف قند و نبات یاد نہیں
dil mein rumuz-e-'ishq kaa daftar liye hue
دل میں رموز عشق کا دفتر لئے ہوئے کوزے میں پھر رہا ہوں سمندر لئے ہوئے ایسے ہی بل ہے میرا مقدر لئے ہوئے جیسے کہ ان کی زلف معنبر لئے ہوئے کیا خاک آئنے میں نظر آئے روئے دوست دل ہے خودی کی گرد مکدر لئے ہوئے صدقے ترے قضا کہ سبک دوش کر دیا بار گنہ تھا بھاری میں سر پر لئے ہوئے حرص و ہوا کے پھندوں میں ہر دم پھنسے ہوئے کتنے وبال جاں ہیں تونگر لئے ہوئے خیل و حشم کو دیکھ کے دوزخ بھی کانپ اٹھا پہنچا جو میں گناہوں کا لشکر لئے ہوئے کھٹکا نہ جان کا ہے نہ کچھ فکر مال کی ساری تسلیاں ہیں گداگر لئے ہوئے آراستہ ہے در معانی سے سربسر جوہرؔ غزل یہ تابش جوہر لئے ہوئے
miraa gham thaa naa-mukammal gham-e-naa-gahaan se pahle
مرا غم تھا نا مکمل غم ناگہاں سے پہلے مری زیست بے مزہ تھی ترے امتحاں سے پہلے یہ مزاج عاشقی ہے یہ مزاج زندگی ہے غم دوست چاہتا ہوں غم دو جہاں سے پہلے تری یاد سے منور ہیں وہ راستے ابھی تک تری جستجو میں گزرا میں جہاں جہاں سے پہلے ترے سنگ در سے پوچھے کوئی اس جبیں کی قیمت جو کہیں نہ خم ہوئی ہو ترے آستاں سے پہلے یہ مقام عشق جوہرؔ ہے بڑی ہی سخت منزل کئی کارواں ہوئے گم مرے کارواں سے پہلے
maut kaa jaam milaa ishq ke maikhaane se
موت کا جام ملا عشق کے میخانے سے واسطہ اب رہا شیشے سے نہ پیمانے سے عشق بدنام ہوا چیخنے چلانے سے سیکھ لے ضبط فغاں تو کسی پروانے سے جام رکھنے کا یہ عادی ہے وہ فیاضی کا اس لئے بنتی نہیں شیشے کی پیمانے سے کسی وحشی کو نصیحت نہ تو کر اے ناصح چھیڑ اچھی نہیں ہوتی کسی دیوانے سے عمر بھر غم سے نہ چھوٹا کبھی دامن جوہرؔ جھگڑے سب مٹ گئے اک موت کے جانے سے





