
Jauhar Deobandi
Jauhar Deobandi
Jauhar Deobandi
Ghazalغزل
نور ماہ آسمانی اور ہے داغ دل کی ضو فشانی اور ہے جب کلی کوئی کھلی آئی صدا چند دن کی زندگانی اور ہے سرخ آنسو ہیں یہ جام چشم میں یہ شراب ارغوانی اور ہے عشق میں تیشہ زنی چلتی نہیں کوہ کن یہ پہلوانی اور ہے دیر و کعبہ کے جہاں پردے نہیں وہ مکان لا مکانی اور ہے اے فلک تجھ میں کہاں تھا یہ شعور اس ستم گاری کا بانی اور ہے ابر باراں میں کہاں سیلاب یہ چشم گریاں کی روانی اور ہے زندگی جس سے کہ ہو زیر و زبر وہ نگاہ دل ستانی اور ہے راہ الفت میں جو ہو جائے شہید وہ حیات جاودانی اور ہے ایک ہیں سب کافر و مومن یہاں میکدہ کی حکمرانی اور ہے شاعری سے انس ناحق ہو گیا میرا پیشہ خاندانی اور ہے اور بھی یوں تو سخنداں ہیں بہت تیری جوہرؔ خوش بیانی اور ہے
nur-e-maah-e-aasmaani aur hai
1 views
کہاں اب وہ پینے پلانے کی باتیں وہ ساقی نہیں ہے وہ محفل نہیں ہے ہیں دامن کے ٹکڑے مرے پاؤں میں اب مجھے احتیاج سلاسل نہیں ہے یہ چہرہ ترا صاف جتنا ہے کافر ترا صاف اتنا مگر دل نہیں ہے بھلا دے مجھے لاکھ تو اپنے دل سے مگر میرا دل تجھ سے غافل نہیں ہے شناسا ہوں تیرا میں روز ازل سے کوئی درمیاں پردہ حائل نہیں ہے سمجھنا محبت کو مشکل ہے جوہرؔ سمجھ لے جو کوئی تو مشکل نہیں ہے
kahaan ab vo piine pilaane ki baatein
1 views
کیجئے گا اپنا در سو بار بند یہ نہ ہوں گے دیدۂ بے دار بند ہو گئی پھر برہمیٔ یار بند جب پڑھے تعریف میں دو چار بند آنکھ میں قطرے نہیں ہیں اشک کے ظرف میں ہے قلزم ذخار بند کر رہی ہے جنبش ابرو حلال میان میں یہ کیجئے تلوار بند اب تو ظالم کھول دے بند نقاب کر رہا ہے آنکھ یہ بیمار بند ہم سے چھوٹے گی نہ ہرگز تانک جھانک لاکھ کیجے روزن دیوار بند دیکھ کر گل رو کو میرے باغ میں بلبلوں کی ہو گئی منقار بند بجلیاں تجھ پر گریں اے باغباں یہ بہاریں اور در گل زار بند کھیل سمجھا تھا تجلی کو کلیمؔ ہو گئیں آنکھیں سر کہسار بند وہ عیادت کو مری آئے ہیں اب ہو چکی جب نبض کی رفتار بند اس بلندی پر عبادت ہے مری جس جگہ ہیں سبحہ و زنار بند شک گزرتا ہے صدائے صور کا کیجئے پازیب کی جھنکار بند ہوگی جوہرؔ پر عنایت کب تری ہوگا کب یہ آنسوؤں کا تار بند
kijiyegaa apnaa dar sau baar band
1 views
آٹھ پہر ہے یہ ہی غم کام بہت ہے وقت ہے کم فیض اٹھائیں تجھ سے غیر ناز اٹھائیں تیرے ہم سر ہو میرا چوکھٹ ان کی نکلے تو یوں نکلے دم جوبن تیرا ہے مے خانہ آنکھ ہیں تیری جام جم بڑھتا قد جو تیرا دیکھے اٹھتی قیامت جائے تھم
aaTh pahar hai ye hi gham
گورا مکھڑا گورے گال اس پہ قیامت بکھرے بال کس دن ہوگا ان سے ملنا دیکھ نجومی میری فال ہجر میں تیرے جان تمنا ایک اک پل ہے سو سو سال غیر ہیں گھیرے ان کو ہر دم کیسے گلے پھر اپنی دال ایک نظر ہے دل کی قیمت کتنا ہے یہ سستا مال آج ہے ساقی موج میں پی لے بات نہ اس کی زاہد ٹال ہاتھ نہ رنگیے آپ حنا سے خون سے میرے کیجے لال دیکھ کے رہنا باغ میں بلبل لئے شکاری پھرتے جال روکے گا ہر تیر کو تیرے سینہ میرا بن کر ڈھال ان پہ آ کر چھائی جوانی مجھ پہ گھر کر آیا کال توبہ توبہ مست جوانی اللہ اللہ بانکی چال کوئی نہیں ہے جگ میں اپنا کس کو سنائیں دل کا حال جینے کا جو لطف ہے لینا غم کی بلبل دل میں پال غیروں کا تو کام ہے جلنا بات پہ ان کی مٹی ڈال سن کر میرے میٹھے شعر ٹپکے جوہرؔ سب کی رال
goraa mukhDaa gore gaal
گو مجھے زیست نے آرام سے رہنے نہ دیا اشک آنکھوں سے مگر ایک بھی بہنے نہ دیا ہم الٹتے ہی رہے روئے منور سے نقاب شام سے تا بہ سحر چاند کو گہنے نہ دیا تاب نظارۂ معشوق کہاں عاشق کو طور پر ہوش میں موسیٰ کو بھی رہنے نہ دیا کر دیا چپ بت کافر نے اشارہ کر کے داور حشر سے کچھ بھی مجھے کہنے نہ دیا ہر گھڑی ہاتھ میں رکھا ہے قفس کو جوہرؔ مجھ کو تنہا کبھی صیاد نے رہنے نہ دیا
go mujhe ziist ne aaraam se rahne na diyaa





