Javed Barqi
بوجھ اٹھائے چلتا رہے گا دریا پانی کا مرتے دم تک ختم نہ ہوگا قصہ پانی کا ساحل ساحل دریا دریا اور سمندر تک پانی بھی کرتا رہتا ہے پیچھا پانی کا جھرنوں سے ندی یہ بولی ساتھ چلو تم بھی سات سمندر پار لگا ہے میلا پانی کا ریت کی موجیں لے کے بڑھا ہے خشکی کا طوفان ڈوبنے والا ڈھونڈ رہا ہے تنکا پانی کا جب تک حق سے قیمت پائے گی میری قربانی آدھا حق صحرا کا ہوگا آدھا پانی کا
bojh uThaae chaltaa rahegaa dariyaa paani kaa