Javed Iqbal Sattar
Javed Iqbal Sattar
Javed Iqbal Sattar
Ghazalغزل
hans kar aansu piine vaale dard baTaane vaale log
ہنس کر آنسو پینے والے درد بٹانے والے لوگ بعد ہمارے تم ڈھونڈو گے ناز اٹھانے والے لوگ موسم بدلا پت جھڑ آئی پنچھی اڑ گئے شاخوں سے ساتھ رہے ہیں ساتھ رہیں گے ساتھ نبھانے والے لوگ بات کہی کیا خوب کسی نے میں دہرائے دیتا ہوں دوست نہیں ہوتے ہیں سارے ہاتھ ملانے والے لوگ دشمن کے زخموں پہ مرہم آپ لگائیں بڑھ چڑھ کر جیت سے گر واقف ہو جائیں جیت منانے والے لوگ ساحل ہے انعام انہی کا جو طوفان سے لڑتے ہیں رزق دریا ہو جاتے ہیں شور مچانے والے لوگ تم نے راتیں سو کر کاٹیں اور دن بھر آرام کیا سورج چاند ستارے لائے خاک اڑانے والے لوگ میلوں چل کر آئیں گے تارے ہماری چوکھٹ پر گو ہم کو پہچان نہ پائے آج زمانے والے لوگ
vafaa ki raah mein dushvaar go safar bhi nahin
وفا کی راہ میں دشوار گو سفر بھی نہیں ہزار سہل سہی لیکن اس قدر بھی نہیں مہہ و نجوم کی دنیا سجی ہوئی ہے مگر فسانہ غم کا مرے اتنا مختصر بھی نہیں جدا میں خود سے کروں تجھ کو کس طرح امید ترے سوا تو مرا کوئی ہم سفر بھی نہیں یہ کیسا دشت ہے کیسا سفر ہے مدت سے سلگتی ریت نہیں دھوپ کا شجر بھی نہیں زباں سے اپنی کہوں دل پہ جو گزرتی ہے وہ بے خبر ہی سہی اتنے بے خبر بھی نہیں جو زخم کھائے ہیں ستارؔ وہ دکھاؤں بھی وفا شناس نہیں ہوں تو بے ہنر بھی نہیں
vo mere saath chalaa sar se dhuup Dhalne tak
وہ میرے ساتھ چلا سر سے دھوپ ڈھلنے تک ہوا بھی دوست رہی بس چراغ جلنے تک کسے خبر تھی کہ سورج کو شام ڈس لے گی ہمارے برف سے دل میں لہو پگھلنے تک جلا جب اپنا ہی گھر اپنے سامنے تو کھلا ہماری کوششیں ساری ہیں ہاتھ ملنے تک بتا مجھے مرے ہمدم تو سوچتا کیا ہے میں با وفا ہوں فقط رخ ترا بدلنے تک جہان وقت کی رو میں تھے سنگ کی صورت قدم قدم پہ لگیں ٹھوکریں سنبھلنے تک صدائے تیرگی ستارؔ سن رہا ہوں میں مرا چراغ ہے روشن لہو کے جلنے تک





