
Javed Sahil
Javed Sahil
Javed Sahil
Ghazalغزل
کوئی پیکر ضرور ابھرے گا ضرب تیشہ اگر لگاؤں میں پارۂ برق شہپروں میں ہے حد امکاں سے پار جاؤں میں مرا ہم زاد سو گیا تھک کر کیسے اس کو بھلا جگاؤں میں نہیں منظور یہ انا کو مری دل بسمل اسے دکھاؤں میں جو دکھائے مجھے مری صورت آئنہ وہ کہاں سے لاؤں میں اسم اعظم کا لوں سہارا اور آتش یم میں کود جاؤں میں زد میں آؤں گا خود ہی میں ساحلؔ تیغ اپنی اگر اٹھاؤں میں
koi paikar zarur ubhregaa
1 views
وہ نگاہ جلوہ آرا چاہئے زندگی کا استعارہ چاہئے جی اٹھے گا پھر سے ققنس سوختہ پہلی بارش کا اشارہ چاہئے لطف ہستی کے لئے ہم کو فقط درد و غم کا اک سہارا چاہئے سرد ہوتا جا رہا ہے اب لہو پھر رگوں میں اک شرارہ چاہئے ہوں قلمرو میں مری شمس و قمر اس بلندی پر ستارا چاہئے ظلمت شب اور بلاؤں کا نزول اسم اعظم کا سہارا چاہئے غم کی زد پر ہے دل حرماں نصیب اس سفینے کو کنارا چاہئے
vo nigaah-e-jalva-aaraa chaahiye
1 views
موج سرکش ہوں میں نہ دریا ہوں پھر بھی اک منظر تماشہ ہوں چند قطروں میں وہ ہوا سیراب میں سمندر ہوں پھر بھی پیاسا ہوں اپنی ہی جستجو میں گم تنہا میں گھنے جنگلوں میں رہتا ہوں تم جو بدلے ہو موسموں کی طرح وقت کے ساتھ میں بھی بدلا ہوں میرا مسکن ہے سینۂ کہسار میں اک آئینۂ سراپا ہوں وہ ہے شبنم کے آبگینوں میں میں اک آسودۂ تمنا ہوں ساحلؔ اس کی نگاہ ہے مجھ پر بزم میں اک طرف میں بیٹھا ہوں
mauj-e-sarkash huun main na dariyaa huun
1 views
آئنہ مخاطب ہے آؤ گفتگو کر لیں اور اسی بہانے ہم خود کی جستجو کر لیں جانے پھر جمے کس دن بزم دل فگاروں کی آؤ چند ساعت ہم کیوں نہ ہاؤ ہو کر لیں ہونٹ یک بہ یک رکھ دیں ہم کف حنائی پر اس کو سرخ رو کر دیں خود کو سرخ رو کر لیں یہ بھی ایک لمحہ ہے آمد بہاراں کا پھاڑ لیں گریباں کو جشن رنگ و بو کر لیں آبلوں کے پانی سے ذرے ذرے کو سینچیں دشت آتشیں کو بھی شامل نمو کر لیں کیوں نہ عام ہو چرچا اس کی مہربانی کا ہم بھی اس کی آنکھوں کا ذکر کو بہ کو کر لیں رشتۂ نفس ٹوٹے جانے کس گھڑی ساحلؔ کیوں نہ اپنی ہستی کو وقف آرزو کر لیں
aaina mukhaatab hai aao guftugu kar lein
1 views
عشق میں تھا جو کبھی آج وہ اعجاز کہاں حسن میں پہلا سا وہ ناز وہ انداز کہاں زندگی خاک کے اک ڈھیر میں تبدیل ہوئی کھو گئی طائر رنگیں تری پرواز کہاں چاند کی وادیٔ خوش رنگ سے جو آتی تھی آج وہ نور میں ڈوبی ہوئی آواز کہاں ایک اک کر کے سبھی روزن و در بند ہوئے دستکیں دوں میں کہاں کوئی بھی در باز کہاں ریت میں غرق ہوئی میرے جنوں کی کشتی آج صحرا کو بھی حاصل کوئی اعزاز کہاں سب بیاں کر دیا آنکھوں کی نمی نے ساحلؔ اس سے پوشیدہ ہے اب میرا کوئی راز کہاں
ishq mein thaa jo kabhi aaj vo eajaaz kahaan
1 views
اس سے پہلے کہ مزاج اپنا سمندر بدلے سست رفتار سفینوں نے بھی تیور بدلے بن گئی تیغ رواں موج ہوائے ہجراں شام آئی تو تری یاد نے پیکر بدلے موسم تازہ کی آہٹ ہے مرے کانوں میں برگ شاخوں نے پرندوں نے نئے پر بدلے میری مٹی میں ہے جذب اس کے بدن کی خوشبو نیند کا لطف ہی اڑ جائے جو بستر بدلے صدف دل میں جو گوہر تھا وہی ہے اب بھی یوں تو دریاؤں نے ہر روز شناور بدلے آج بھی عکس وہی ہے جو بہت پہلے تھا آئنہ خانے میں آئینے تو اکثر بدلے نئے الفاظ و معانی کی طلب ہے ساحلؔ غیر ممکن ہے مزاج اپنا سخنور بدلے
is se pahle ki mizaaj apnaa samundar badle





