SHAWORDS
Jawwad Syed

Jawwad Syed

Jawwad Syed

Jawwad Syed

poet
3Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

جیسی خواہش تھی مری کاش کہ ویسا ہوتا سکھ پرایا سہی اک بار تو میرا ہوتا آگ تیری بھی مری آگ میں شامل ہوتی تب کہیں جا کے کلیجہ مرا ٹھنڈا ہوتا ایک حسرت ترے جانے کے بہت بعد ہوئی تیرے خاطر ہی مرے پاس میں پیسہ ہوتا پہلا رستہ بھی کوئی خاص مزے دار نہیں کاش مرنے کا کوئی دوسرا رستہ ہوتا

jaisi khvaahish thi miri kaash ki vaisaa hotaa

غزل · Ghazal

کس کا یہ گھر بنا ہے کس کی گلی بنی ہے ہم تو ابھی گئے تھے پھر یہ کبھی بنی ہے آنسو کا تیرے قطرہ ہے میز پر ابھی تک تو دیکھ آ کے اس میں اک جل پری بنی ہے دو تین ماہ پہلے بچی تھی چھوڑی میں نے جانے وہ اتنی جلدی کیسے بڑی بنی ہے اپنی بنائی دنیا کا اپنا اک مزہ ہے یہ جو بنی ہوئی ہے یہ تو بنی بنی ہے جوادؔ چھوڑ کس نے تجھ سے بنائے رکھی بس یہ بتا دے ہم کو کس سے تری بنی ہے

kis kaa ye ghar banaa hai kis ki gali bani hai

غزل · Ghazal

ڈرا ڈرا کے وہ مجھ کو باغی بنا رہا ہے حکومتوں کے لیے تباہی بنا رہا ہے جواں دلوں پر غموں کے تالے لگے ہوئے ہیں اور اک وہ بوڑھا خوشی کی چابی بنا رہا ہے سبھی کے ہاتھوں میں فون ہے پر قلم نہیں ہے امید لے کر کوئی سیاہی بنا رہا ہے تری محبت سے پہلے ڈرپوک شہری تھا میں ترا نشہ تو مجھے سپاہی بنا رہا ہے میں اس کا راجا ہوں بچپنے سے پر اس کا ابا اسے فقیروں کے گھر کی رانی بنا رہا ہے خبر ہے پھیلی کہ تجھ کو ماڈل ہے بھاتے تب سے ہر ایک بچہ نگر میں باڈی بنا رہا ہے تو اس کی آنکھوں کو دیکھ کر ہی سمجھ لے جوادؔ وہ سچ چھپا کر فقط کہانی بنا رہا ہے

Daraa Daraa ke vo mujh ko baaghi banaa rahaa hai

Similar Poets