Jiya Lal Datt Rafeeq
Jiya Lal Datt Rafeeq
Jiya Lal Datt Rafeeq
Ghazalغزل
قصۂ جاں گزا کہوں نہ کہوں ہجر کا ماجرا کہوں نہ کہوں نہ ہوئی منزل طلب حاصل خضر کو رہ نما کہوں نہ کہوں اب تو اس نے بھی ساتھ چھوڑ دیا عمر کو بے وفا کہوں نہ کہوں جب دوا فائدہ نہیں کرتی درد کو بے دوا کہوں نہ کہوں بے ریائی میں فرد ہے وہ بھی رند کو پارسا کہوں نہ کہوں جس سے پڑ جائیں آبلے لب پر تم سے وہ ماجرا کہوں نہ کہوں مجھ کو گرداب سے بچا لایا ناخدا کو خدا کہوں نہ کہوں حرم و دیر میں بھی وہ نہ ملا بخت کو نارسا کہوں نہ کہوں
qissa-e-jaan-guzaa kahun na kahun
مذاہب میں حسن شریعت نہیں ہے کسی کے بھی دل میں مروت نہیں ہے ترے ناز خاموش رہ کر اٹھا لیں وہ پہلی سی اپنی بھی حالت نہیں ہے لگایا گلے موت کو در نہ چھوڑا خطا یہ نہیں ہے یہ غفلت نہیں ہے بھلا کیسے توڑوں میں رشتہ بتوں سے ملے گا خدا ایسی قسمت نہیں ہے ستم گر ہے وہ اور وہ بے وفا ہے یہ کہہ دوں اسے مجھ میں جرأت نہیں ہے وہی چھوڑ جانے کا ہیں نام لیتے کہ جن کے لئے دہر جنت نہیں ہے ہو دل میں ترے زعم پیدا کہ جس سے ابھی میں نے مانی وہ منت نہیں ہے نہیں اس کی عادت یقیں لائے مجھ پر قسم کھانا میری بھی فطرت نہیں ہے رفیقؔ اٹھ گئی ہے جہاں سے محبت کسی کے بھی دل میں محبت نہیں ہے
mazaahib mein husn-e-shariat nahin hai
نہ الفت نہ یاد خدا لے گئے نہ جانے وہ دنیا سے کیا لے گئے گری برق کیا جانے کس شاخ پر مرا آشیاں وہ اٹھا لے گئے میں ان کے تلطف کا جویا رہا دعا لینے والے دعا لے گئے نہ آہ و فغاں پر تھا قابو مرا نہ آنسو ہی مجھ سے سنبھالے گئے جو کرتے رہے پیار کانٹوں سے بھی وہ راہ وفا کو سجا لے گئے زیارت کو جتنے بھی آئے تھے لوگ دلوں میں وہ تجھ کو بٹھا لے گئے نہ کچھ ساتھ لائے تھے دنیا میں ہم نہ پوچھو کہ ہم ساتھ کیا لے گئے سفر زندگی کا نہ کاٹے کٹے نہ منزل کا بھی ہم پتہ لے گئے پتہ ان کا ملتا نہیں دہر میں چرا کر جو دل آپ کا لے گئے سپرد خدا خود کو کر کے رفیقؔ قضا سے وہ خود کو بچا لے گئے
na ulfat na yaad-e-khudaa le gae
گم کر لے اپنے جلوؤں میں تو سربسر مجھے میری خبر تجھے نہ ہو تیری خبر مجھے مرضی ہے اس کی خار ہوں پھولوں کے ساتھ ساتھ الفت کے ساتھ دے دیا درد جگر مجھے اک لذت وصال سے دل کو سکوں کہاں کچھ اس سے بھی بلند عطا ہو نظر مجھے کس بوتے پہ میں قوت پرواز مانگتا پہلے بنا نہ دیتے جو ایک مشت پر مجھے جب بھی تجھے نہ خواب میں میں دیکھ لوں رفیقؔ تاریک مہر و ماہ بھی آتے نظر مجھے
gum kar le apne jalvon mein tu sar-basar mujhe
فرقت میں تجھ کو میں نے پکارا کبھی کبھی ملتا ہے درد کو بھی سہارا کبھی کبھی تیرا پتہ نہ کوئی بھی مجھ کو بتا سکا ہر آستاں پہ تجھ کو پکارا کبھی کبھی رہبر نے پھیر لی ہیں نگاہیں تو کیا ہوا رہزن سے بھی ملا ہے سہارا کبھی کبھی عمر دراز مجھ کو وہ شاید عطا کرے پاؤں کو میں نے اپنے پسارا کبھی کبھی سجدے کئے ہیں در پہ ترے میں نے بار بار فرقت کا وقت ایسے گزارا کبھی کبھی تیرے ہی ناز میں نے اٹھائے ہیں رات دن گیسوئے عنبریں کو سنوارا کبھی کبھی دل کو رفیقؔ ڈوبتے دیکھا ہے بارہا یادوں نے اس کو پھر بھی ابھارا کبھی کبھی
furqat mein tujh ko main ne pukaaraa kabhi kabhi
عشق روٹھا ہے کبھی حسن سے بد ظن ہو کر داغ دل اور بھڑک اٹھتے ہیں روشن ہو کر دیر میں بھی ہے وہی اور حرم میں بھی وہی بیر کیوں شیخ سے ہے تجھ کو برہمن ہو کر گھپ اندھیروں میں ہوئے مجھ سے گنہ جو سرزد سامنے آ کھڑے ہیں وہ مرے درپن ہو کر صدمے جو تیری جفاؤں کے ابھر آئے ہیں دل میں وہ آج چمک اٹھے ہیں روشن ہو کر اب تو جینا بھی ہے دشوار غم فرقت میں مجھ کو دل بھی نہ نظر آیا نشیمن ہو کر بد نصیبی کی کوئی حد بھی ہوا کرتی ہے بن گیا کنج قفس دشت کا دامن ہو کر آسمانوں میں جو منڈلاتی نظر آتی ہیں بجلیاں اتریں گی وہ برق نشیمن ہو کر میں نے دشمن کو کبھی سمجھا نہ دشمن لیکن آپ تو اور حسیں بن گئے دشمن ہو کر ڈھونڈ آیا ہوں میں ہر قریہ و ہر شہر رفیقؔ کوئی وادی نہ ملی وادیٔ ایمن ہو کر
ishq ruThaa hai kabhi husn se bad-zan ho kar





