
Johar Rana
Johar Rana
Johar Rana
Ghazalغزل
aaine ki aankh mein patthar giraa
آئنے کی آنکھ میں پتھر گرا جھیل میں جیسے کوئی کنکر گرا توڑتا ہے جب کسی کا دل کوئی لگتا ہے جیسے خدا کا گھر گرا ہر طرف پھیلی صداؤں کی مہک لفظ کی تصویر سے منظر گرا گونج اٹھے قہقہے احباب کے چلتے چلتے کھا کے جب ٹھوکر گرا آج جوہرؔ خار کے آغوش میں نرم و نازک پھول کا پیکر گرا
jiine kaa imkaan na likhnaa
جینے کا امکان نہ لکھنا مرنا بھی آسان نہ لکھنا رونے کو تم سہل نہ لکھو ہنسنا بھی آسان نہ لکھنا دھوپ میں سایہ لکھ برگد کا اب گوتم یا گیان نہ لکھنا کون یہاں سنتا ہے کسی کی دیواروں کے کان نہ لکھنا جوہرؔ اپنا نام ہی لکھو تم اپنی پہچان نہ لکھنا
tire naqsh-e-paa hon jis mein vo Dagar kahaan se laaun
ترے نقش پا ہوں جس میں وہ ڈگر کہاں سے لاؤں ہو ہمیشہ ساتھ تیرا وہ سفر کہاں سے لاؤں کوئی عیش ہے دوامی نہ قرار کوئی دائم نہ ہو جس کی شام کوئی وہ سحر کہاں سے لاؤں وہ خودی کہاں سے لاؤں ترے جبر کو جو توڑے تہ تیغ سر جھکا دے میں وہ سر کہاں سے لاؤں پرے آسماں سے پہنچوں یہی آرزو ہے لیکن وہ تڑپ کہاں سے لاؤں میں وہ پر کہاں سے لاؤں در دل ربا پہ جوہرؔ بھلا کیسے پہنچوں آخر میں شکستہ پا ہوں عاشق وہ سفر کہاں سے لاؤں
sach sach apnaa qissa likh
سچ سچ اپنا قصہ لکھ جیسا ہے تو ویسا لکھ ہنسنے کو اک دنیا لکھ رونے کو بس کمرہ لکھ سب بحروں میں شعر لکھوں عنواں پوری دنیا لکھ وہ ہنس دے تو پھول کھلیں اس کا رونا دریا لکھ جس میں ہو اخلاص وفا جوہرؔ شعر تو ایسا لکھ
baat jo tum ko sikhaai hai puraani kahnaa
بات جو تم کو سکھائی ہے پرانی کہنا لوگ کچھ بھی کہیں تم آگ کو پانی کہنا نوجواں بوجھ جو غیروں کو اٹھائے ہنس کر دوستو اس کی جوانی کو جوانی کہنا میں مصور تو نہیں ہوں کہ کمال آ جائے اپنی تصویر کو تصویر سہانی کہنا کس طرح تم نے کیا راہ محبت کا سفر لوٹ آؤ تو ہمیں اپنی کہانی کہنا چوٹ محبوب کے ہاتھوں لگے کوئی جوہرؔ تم اسے پیار کی انمول نشانی کہنا
yuun to hamaare biich koi faasla nahin
یوں تو ہمارے بیچ کوئی فاصلہ نہیں پھر بھی ہمارے بیچ کوئی واسطہ نہیں ناکامیٔ سفر کا سبب کچھ نہ پوچھئے منزل تو سامنے ہے مگر راستہ نہیں رہتا ہوں مست خواب ستاروں کی چھاؤں میں اس شہر میں مجھے کوئی پہچانتا نہیں الفاظ کو برتنے کا معلوم ہے ہنر پھر بھی میں ان کے سامنے کچھ بولتا نہیں جوہرؔ وہ مجھ کو چھوڑ کے تنہا چلا گیا پھر بھی مجھے یقین ہے وہ بے وفا نہیں





