John Albert Pal Nadir
kyaa huaa dil-e-hazin gar khushi guzar gai
کیا ہوا دل حزیں گر خوشی گزر گئی غم اگر چلا گیا جنس معتبر گئی اک تمہارے عشق سے کس قدر ضرر ہوا دل گیا جگر گیا دوربیں نظر گئی حسرت مدام ہی زندگی کی جان ہے آدمی ہی مر گیا آرزو جو مر گئی دوسروں پہ منحصر ناخدا کے منتظر دیکھ مجھ نحیف کی ناؤ پار اتر گئی دشمنی کو بھول کر بیکسی پہ رو دیا جب رقیب کی نظر میری قبر پر گئی فاتحہ کو ہاتھ اٹھا کر دعائے مغفرت نعش نادرؔ حزیں قبر میں اتر گئی