Julius Naheef Dehlvi
Julius Naheef Dehlvi
Julius Naheef Dehlvi
Ghazalغزل
tujhe rab kahe koi vahguru tu kahin khudaa kahin raam hai
تجھے رب کہے کوئی وہگرو تو کہیں خدا کہیں رام ہے یہ ہیں ایک نام کی برکتیں ہمیں نام لینے سے کام ہے تری معرفت کی شراب میں وہ سرور و کیف دوام ہے مئے تلخ میں بھلا کیا مزہ مئے تلخ پینا حرام ہے ہے حرام کیا تو حلال کیا یہ ہمارے دل پہ ہے منحصر جسے چاہے دل تو حلال ہے جو نہ چاہے دل تو حرام ہے مرے دل میں تیری ہی یاد ہے تو بسا ہوا ہے خیال میں ہے زباں پہ تیری ہی گفتگو مرے لب پہ تیرا ہی نام ہے وہ کسی بھی قوم کا بھائی ہو کرو کوششیں کہ بھلائی ہو کسی بات پہ نہ لڑائی ہو یہی انبیا کا پیام ہے تری بارگاہ نیاز میں پئے سجدہ سینکڑوں سر جھکیں تو رحیم ہے تو کریم ہے تو ہی سب کا پیش امام ہے وہ فقیر ہو کہ امیر ہو کہ ہو بادشاہ مرے خدا ہو کسی کا کوئی بھی مرتبہ یہاں جو ہے تیرا غلام ہے وہ کریم ہے وہ رحیم ہے وہ فہیم ہے وہی کبریا بس اسی کی شان عظیم ہے بس اسی کا عالی مقام ہے اے نحیفؔ تجھ کو میں کیا کہوں تجھے دل سے کیسے بھلا سکوں تری سیدھی سادی سی گفتگو ترا سیدھا سادا کلام ہے
hindu hai sikh hai muslim hai isaai hai jo bhi hai vo vatan kaa nigahbaan hai
ہندو ہے سکھ ہے مسلم ہے عیسائی ہے جو بھی ہے وہ وطن کا نگہبان ہے یہ نہ دیکھو کہ وہ کام کرتا ہے کیا کام کچھ بھی کرے آخر انسان ہے یہ چھوا چھوت ہے دشمنی کا سبب ہم وطن ہیں تو پھر ہے یہ تفریق کیوں اک برہمن ہے اور ایک جن جات ہے وہ بھی انسان ہے وہ بھی انسان ہے ہادیٔ دین جتنے بھی آئے یہاں ساری دنیا کو ان کا یہ پیغام تھا نہیں انسانیت جس میں انساں نہیں جس میں انسانیت ہے وہ انسان ہے کرشن آئے یہاں آئے منجی یہاں نانک آئے یہاں آئے رسل خدا سبھی اک دوسرے سے محبت کریں ساری دنیا کو ان کا یہ فرمان ہے یہ چھوا چھوت ہے اصل میں پر خطر اس کا اپنے وطن پر ہوا یہ اثر لاکھوں مارے گئے صرف اس بات پر جس نے ایسا کیا ہے وہ نادان ہے یہ مذاہب تو اپنی جگہ ہیں مگر اے نحیفؔ اس سے انسان ہے بے خبر تو ہے انسان انسان سے پیار کر یہی انسان سچے کی پہچان ہے





