K K Nanda Ashk
K K Nanda Ashk
K K Nanda Ashk
Ghazalغزل
جب روٹھ جانا آپ کا اچھا نہیں لگا کیوں مان جانا آپ کا اچھا نہیں لگا مٹی میں کیوں ملاتے ہیں ان موتیوں کو آپ آنسو بہانا آپ کا اچھا نہیں لگا محفل سے جو نکالا کوئی بات ہی نہ تھی ہاں مسکرانا آپ کا اچھا نہیں لگا ہر آستاں پہ دیکھیے تعظیم کے لئے سر کو جھکانا آپ کا اچھا نہیں لگا عزت نہیں بڑوں کی نہ چھوٹوں سے پیار ہے ہم کو زمانہ آپ کا اچھا نہیں لگا گو اشکؔ غیر ہی سہی لیکن یوں بزم سے اس کو اٹھانا آپ کا اچھا نہیں لگا
jab ruuTh jaanaa aap kaa achchhaa nahin lagaa
وقت کی دہلیز پر بیٹھے ہیں جانے کے لئے منتظر ہیں موت کے آرام پانے کے لئے کیا لکھوں جو زندگی اپنی کہانی کہہ گئی لفظ لاؤں میں کہاں سے اس فسانے کے لئے جو بنایا تھا کبھی وہ گھر بکھر کر رہ گیا ہم ترستے ہی رہے اس آشیانے کے لئے محفل جام و سبو میں اب کہاں وہ رونقیں اب کہاں انداز ساقی ہے دکھانے کے لئے زیب دیتا ہی نہیں ہر بات پر یوں روٹھنا کیا کریں جائیں گے پھر ان کو منانے کے لئے زندگی کی الجھنوں میں ہر کوئی مصروف ہے اشکؔ کس کے پاس بیٹھیں دل لگانے کے لئے
vaqt ki dahliz par baiThe hain jaane ke liye





