SHAWORDS
Kafeel Anwar

Kafeel Anwar

Kafeel Anwar

Kafeel Anwar

poet
6Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

وہ کیا گیا مسلط مرا حال دیکھنے کو کہ عروج زندگانی کا زوال دیکھنے کو یہ عجیب مسئلہ ہے مرے اس کے درمیاں بھی وہ جواب لے کے آیا ہے سوال دیکھنے کو تو بدل کے اپنا چہرہ بڑا شادماں ہے لیکن کوئی آئنہ تو رکھ لے خد و خال دیکھنے کو جہاں کل بسا ہوا تھا مرا شہر اب ہے ملبہ مجھے اس نے زندگی دی یہ وبال دیکھنے کو نہ تو داد کی تمنا نہ تو شہرتوں کی خواہش مرا فن ہی آئنہ ہے یہ کمال دیکھنے کو جو کھڑا ہوا ہے انورؔ لئے سنگ میرے آگے وہ ہے مضطرب لہو کا یہ ابال دیکھنے کو

vo kiyaa gayaa musallat miraa haal dekhne ko

1 views

غزل · Ghazal

ترے وجود کو بس آن بان میں رکھا کوئی بھی عکس نہ سونے مکان میں رکھا بس ایک وہم سا سایہ فگن رہا برسوں جو پھول سوکھ گیا خاکدان میں رکھا مری انا کے اگر روبرو نہیں کوئی تو ذکر کس کا یہ اپنے بیان میں رکھا سناتا کیسے میں قصہ یہ بے حسی کا یہاں کہ خود کو اس نے مگر درمیان میں رکھا مسافران عدم کا پڑاؤ کیا انورؔ کہ اس نے خود ہی انہیں سائبان میں رکھا

tire vajud ko bas aan-baan mein rakkhaa

غزل · Ghazal

بدل بدل کے وہ چولا مکان سے نکلا کسی کا تیر کسی کی کمان سے نکلا حسین بستیاں ویران کرنے والا بھی خوشی کو ڈھونڈھتا وہم و گمان سے نکلا عجیب حادثہ اہل زمین پر گزرا کہ قطرہ قطرہ لہو آسمان سے نکلا وہ حرف حرف کتابوں کو چاٹنے والا سفید کیڑا مری داستان سے نکلا وہ ایک قصہ جو انورؔ کبھی سنا نہ سکا وہ لفظ لفظ کسی کے بیان سے نکلا

badal badal ke vo cholaa makaan se niklaa

غزل · Ghazal

سورج چاند ستارے روشن دھرتی کے مہ پارے روشن فکر و نظر کے آئینے میں صحرا ریت شرارے روشن انا گزیدہ انسانوں میں کہاں رہیں گے سارے روشن ٹوٹے بکھرے خواب سنہری اور قلم کے تارے روشن قلب سیاہی مائل سب کے لیکن تیسوں پارے روشن انورؔ چھوڑ کے گھر نکلا ہوں بام و در گلیارے روشن

suraj chaand sitaare raushan

غزل · Ghazal

جہاں میں کوئی تمہارا جواب ہو نہ سکا ستارا لاکھ بڑھا آفتاب ہو نہ سکا خوشی کے چند ہی لمحے تھے گن لئے لیکن غم جہاں کا کسی سے حساب ہو نہ سکا یہاں تو چاروں طرف پتھروں کی بارش تھی کوئی بھی سنگ نشانہ مآب ہو نہ سکا قصور اس کو سمجھئے مری بصارت کا وہ بے لباس رہا بے حجاب ہو نہ سکا مرے لہو نے بہاروں کو تازگی دے دی فسردہ ان کے لبوں کا گلاب ہو نہ سکا اسے سمجھنا تو ممکن نہیں ہے اے انورؔ وہ ایک چہرہ جو دل کی کتاب ہو نہ سکا

jahaan mein koi tumhaaraa javaab ho na sakaa

غزل · Ghazal

جہاں سے الگ اک جہاں چاہتا ہوں زمیں اور نیا آسماں چاہتا ہوں اندھیرے مجھے راس آنے لگے ہیں کہ میں روشنی کا زیاں چاہتا ہوں کہیں ظلم ہو لوگ آواز اٹھائیں کہ میں سب کے منہ میں زباں چاہتا ہوں مرے دل کو بھاتی ہیں امواج سرکش سمندر ہوں کوہ گراں چاہتا ہوں

jahaan se alag ik jahaan chaahtaa huun

Similar Poets