SHAWORDS
Kaif Moradaabadi

Kaif Moradaabadi

Kaif Moradaabadi

Kaif Moradaabadi

poet
26Ghazal

Ghazalغزل

See all 26
غزل · Ghazal

رسائی سعئ نا مشکور ہو جائے تو کیا ہوگا قدم رکھتے ہی منزل دور ہو جائے تو کیا ہوگا تجلی خود حجاب نور ہو جائے تو کیا ہوگا بظاہر بھی کوئی مستور ہو جائے تو کیا ہوگا حقیقت میں کوئی مہجور ہو جائے تو کیا ہوگا نظر سے دور دل سے دور ہو جائے تو کیا ہوگا ابھی تو عارضی ہے دوست بن کر دشمنی کرنا جو دنیا کا یہی دستور ہو جائے تو کیا ہوگا یہ سب سے چھپ کے خود کو آئنے میں دیکھنے والے نظر خلوت میں برق طور ہو جائے تو کیا ہوگا لئے جاتا ہے عزم ترک الفت ان کی محفل میں نظر اٹھتے ہی دل مجبور ہو جائے تو کیا نظام عاشقی قائم ہے ان کی بے نیازی سے کسی کی التجا منظور ہو جائے تو کیا ہوگا ہر اک کو کیفؔ تم کیوں اپنا افسانہ سناتے ہو غم الفت غم جمہور ہو جائے تو کیا ہوگا

rasaai sai-e-naa-mashkur ho jaae to kyaa hogaa

غزل · Ghazal

بقا کی فکر کرو خود ہی زندگی کے لئے زمانہ کچھ نہیں کرتا کبھی کسی کے لئے نہیں ہے وقف اگر زندگی کسی کے لئے تو ہر قدم پہ تباہی ہے آدمی کے لئے کمال جب ہے کہ اس راہ میں چراغ جلاؤ جو مدتوں سے ترستی ہے روشنی کے لئے فریب شوق فریب نظر فریب خیال ہزار دام ہیں اک ذوق آگہی کے لئے تمہاری بزم میں کیا شکوۂ غم ہستی یہاں تو سانس بھی نعمت ہے زندگی کے لئے گلوں نے آگ لگا دی تمام گلشن میں ذرا سی دیر کے لطف شگفتگی کے لئے کوئی تو بات ترے آستاں میں ہے ورنہ ہزار در تھے مرے ذوق بندگی کے لئے وہاں ہواؤں کے رخ بھی نگاہ میں رکھنا جہاں چراغ جلاتے ہو روشنی کے لئے نہ جانے کتنی بہاروں کا خوں ہوا ہوگا نگار خانۂ عالم کی دل کشی کے لئے فروغ بادہ نہیں ہے حریف تشنہ لبی کچھ اور لاؤ مرے ذوق مے کشی کے لئے نگاہ برق ہے جب سے مرے چمن کی طرف دعائیں مانگ رہا ہوں کلی کلی کے لئے جو ان کے غم سے ہو نسبت تو ہر جہان میں کیفؔ مسرتوں کا خزانہ ہے آدمی کے لئے

baqaa ki fikr karo khud hi zindagi ke liye

غزل · Ghazal

سب جسے کہتے ہیں وقف غم جاناں ہونا اولیں شرط ہے اس کے لئے انساں ہونا غم کے داغوں نے بڑا کام بنایا دل کا اس سیہ خانے میں مشکل تھا چراغاں ہونا اپنے پرتو کے سوا ذہن میں کچھ بھی نہ رہا اور سکھلایئے آئینوں کو حیراں ہونا اف یہ دیوانگئ عشق کہ اس بزم میں بھی جب کبھی ہوش میں آنا تو پریشاں ہونا بزم عالم ہو کہ محشر میری دانست میں ہے اک تجلی کا کئی رخ سے نمایاں ہونا خار و خس کو بھی نگاہوں میں رکھیں اہل چمن ورنہ ممکن نہیں تنظیم بہاراں ہونا دل کے ٹکڑے سر دامن پہ لیے بیٹھا ہوں کھیل سمجھا تھا علاج غم پنہاں ہونا میرا کردار ہے ظاہر مرے اشعار سے کیفؔ جیسے تصویر میں اک رنگ نمایاں ہونا

sab jise kahte hain vaqf-e-gham-e-jaanaan honaa

غزل · Ghazal

یہ سوچتا ہوں کہ خود عارف حیات بھی ہے بشر جو محرم اسرار کائنات بھی ہے نفس نفس میں رہے کیوں نہ اک جہان صفات مری نگاہ میں تنویر حسن ذات بھی ہے دلوں کو مل نہیں سکتی تھی عشرت ابدی ہزار شکر محبت میں غم کی رات بھی ہے وہ اک خیال کہ جس نے غم حیات دیا وہی خیال علاج غم حیات بھی ہے جو سر عشق بھی ہے راز حسن جاناں بھی یقیں کرو مرے دل میں اک ایسی بات بھی ہے یہ ہر گنہ پہ جو احساس ہے ندامت کا مجھے تو کیفؔ یہی حیلۂ نجات بھی ہے

ye sochtaa huun ki khud aarif-e-hayaat bhi hai

غزل · Ghazal

اب سوچتا ہوں جاؤں تو جاؤں کدھر کو میں اے کاش چھوڑتا نہ تری رہ گزر کو میں دل غم کا آئنہ ہے نظر دل کا آئنہ کیسے چھپاؤں سوز نہاں کے اثر کو میں عالم تمام ایک فریب نگاہ ہے اب کیا دکھاؤں چشم حقیقت نگر کو میں مدہوشیوں میں ٹوٹ گیا دل کا آئنہ اب کیسے منہ دکھاؤں گا آئینہ گر کو میں ان کی نظر خدا نہ کرے منفعل ہو کیفؔ دیکھوں نہ کاش جذبۂ غم کے اثر کو میں

ab sochtaa huun jaaun to jaaun kidhar ko main

غزل · Ghazal

غم نے دلوں کو رام کیا اور گزر گیا ظالم نے اپنا کام کیا اور گزر گیا صیاد کچھ تو خاطر اہل وفا کرے یہ کیا اسیر دام کیا اور گزر گیا اے ساقیٔ بہار ترے ذوق کے نثار ہر گل کو ایک جام کیا اور گزر گیا آیا تھا بت کدہ بھی مری راہ شوق میں میں نے تو اک سلام کیا اور گزر گیا یہ کائنات ہے کہ کسی نے بصد حجاب اک خاص جلوہ عام کیا اور گزر گیا آیا قریب کیفؔ کوئی مست ناز حسن ڈالی نظر غلام کیا اور گزر گیا

gham ne dilon ko raam kiyaa aur guzar gayaa

Similar Poets