SHAWORDS
K

Kaifi Kakorvi

Kaifi Kakorvi

Kaifi Kakorvi

poet
6Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

اگر آہ رسا سے کام ہم نا کام لیتے ہیں فرشتے پایۂ عرش معلی تھام لیتے ہیں بتوں پر کوئی مر جائے قضا کا نام لیتے ہیں یہ کافر اپنے اوپر کب کوئی الزام لیتے ہیں بتوں کے ذکر پر کیفیؔ کلیجہ تھام لیتے ہیں کوئی پوچھے اسی منہ سے خدا کا نام لیتے ہیں اثر میری وفا کا بعد میرے یہ ہوا ان پر مرا جب نام آتا ہے کلیجہ تھام لیتے ہیں ترے ارمان دل میں آ کے جم جاتے ہیں کچھ ایسے نکالو تو نکلنے کا نہیں پھر نام لیتے ہیں پڑا رہنے دو اپنے سایۂ دیوار میں دم بھر تمہارے دل جلے تھک کر ذرا آرام لیتے ہیں ہوا ہے ابر ہے گلزار ہے مطرب ہے ساقی ہے مزہ ساون کا لیتے ہیں تو مے آشام لیتے ہیں تمہاری بد گمانی ہی تمہیں بدنام کرتی ہے تمہارے مرنے والے کب تمہارا نام لیتے ہیں لٹیرے ہیں حسیں معشوق ان کو کون کہتا ہے زبردستی یہ گاہک جن سے دل بے دام لیتے ہیں متاع دل کے بدلے بوسۂ لب کیوں نہ لیں عاشق کہ چوکھا مال دیتے ہیں کرارے دام لیتے ہیں ترے نقش قدم کو چھو کے سر پر کون آفت لے ہزاروں فتنۂ محشر یہاں آرام لیتے ہیں ہم اپنے گھر میں باتیں کرتے ہیں تم کو خلش کیوں ہے شکایت دل سے کرتے ہیں کسی کا نام لیتے ہیں خوشی منظور ہے ان کی زباں سے کچھ نہیں کہتے نہ پوچھو دل پہ کیا کیا مورد آلام لیتے ہیں

agar aah-e-rasaa se kaam ham naa-kaam lete hain

غزل · Ghazal

دل کو صبر و قرار بھی نہ ہوا جبر پر اختیار بھی نہ ہوا لالہ ہر چند باغ میں پھولا گل رخوں میں شمار بھی نہ ہوا مر مٹے فکر میں عروج کے ہم خاک اونچا غبار بھی نہ ہوا رہ گیا تیر یار پہلو میں کیا ستم ہے کہ پار بھی نہ ہوا خون سے میرے دامن قاتل تختہ لالہ زار بھی نہ ہوا مے سے مجھ کو خمار بھی نہ ہوا نشہ کیسا اتار بھی نہ ہوا اثر چشم زار بھی نہ ہوا صاف ان کا غبار بھی نہ ہوا ایک بوسے کو تو گنا سو بار گالیوں کا شمار بھی نہ ہوا ان کی رسوائیوں کا پاس رہا میں کبھی اشک بار بھی نہ ہوا سرو نے سرکشی سے کیا پایا شجر میوہ دار بھی نہ ہوا

dil ko sabr-o-qaraar bhi na huaa

غزل · Ghazal

اے شیخ تیری پند و نصیحت سے کیا ہوا کمبخت چھوٹتا ہے کہیں دل لگا ہوا شرم و حیا کو چھوڑیئے برقع اٹھائیے کب تک رہے گا چاند گہن میں دیا ہوا مانگا تھا بوسہ آپ سے لے تو نہیں لیا برہم ہو کیوں بتائیے نقصان کیا ہوا دعویٰ ہمارے دل پہ بتوں کو ہے کس لئے کیا ان کے ہاتھ بیع ہوا یا ہبہ ہوا بوسہ ضرور لیں گے کسی روز دیکھنا لب پہ ہے ان کے دانت ہمارا لگا ہوا او بت تری خدائی کا قصہ سناؤں گا اللہ سے جو حشر کے دن سامنا ہوا ہم نے نگاہ پھیر کے دیکھا جو غیر کو کیفیؔ کے دل سے پوچھئے انجام کیا ہوا

ai shaikh teri pand-o-nasihat se kyaa huaa

غزل · Ghazal

درویش ہوں جو گنج میسر نہیں تو کیا دل سے غنی ہوں پاس مرے زر نہیں تو کیا لاکھوں صدائے صور ہیں پازیب یار میں چھم چھم کا شور فتنۂ محشر نہیں تو کیا سیلاب اشک موجۂ طوفان نوح ہے آنکھوں میں بند سات سمندر نہیں تو کیا رنگ حنا سے ہاتھ بتوں کے ہیں لال لال پھر یہ ہمارے خون کا محضر نہیں تو کیا لاکھوں ہیں معجزے لب جاں بخش یار میں رشک مسیح ہیں وہ پیمبر نہیں تو کیا سر خوش ہیں ہم خیال میں اک چشم مست کے ساقی ہمارے دور میں ساغر نہیں تو کیا موزوں کلام پاک بیاں خوش خیال ہے کیفیؔ سخن شناس سخنور نہیں تو کیا

darvesh huun jo ganj mayassar nahin to kyaa

غزل · Ghazal

یہ بھی ہے کوئی بات کہ دل بد گماں نہ ہو میرا تو ہو عدو کا مگر امتحاں نہ ہو تیرے سوا جو دل میں کوئی جان جاں نہ ہو پھر یہ مکان کاہے کو ہو لا مکاں نہ ہو اے ضبط درد عشق کسی پر عیاں نہ ہو دل ہی میں آہ کر کہ کوئی بد گماں نہ ہو شرط وفا ہے شکوۂ جاناں بیاں نہ ہو محشر کو با خدا مرے منہ میں زباں نہ ہو گلچیں ہو شاد خوش رہیں صیاد و باغباں گلشن میں گر نہیں ہے مرا آشیاں نہ ہو کیوں ہو بتوں کے قول کا ہر بار اعتبار دھوکا نہ کھائیں ہم جو خدا درمیاں نہ ہو اس برق فتنہ خو کی جو چالیں نہ ہوں شریک اس آب و تاب کا ستم آسماں نہ ہو میرا خدائے پاک تو ہے مہربان حال کیا فکر ہے وہ بت جو نہیں مہرباں نہ ہو آئینہ ہم دکھاتے ہیں اور بد گماں تجھے دیکھیں تو اپنے حسن پہ تجھ کو گماں نہ ہو آنے دے روز حشر ذرا اے شب فراق ایسی جگہ تلاش کروں تو جہاں نہ ہو دنیا میں اس کے جور سے ممکن نہیں نجات ایسی زمیں کہاں ہے جہاں آسماں نہ ہو بے فصل کیوں فلک پہ گھٹائیں اٹھیں ہیں آج بچنا یہ میری آہ کا ظالم دھواں نہ ہو جو کچھ کہ پوچھنا ہے یہیں مجھ سے پوچھ لے یا رب بتوں کے عشق کی پرسش وہاں نہ ہو میں اپنے دل میں رکھوں گا غیروں کو قدر کیا مجھ پر لگا کہ تیر کوئی رائیگاں نہ ہو حکمت خدا کی تھی کہ یہ کھٹکا لگا دیا پھولے نہ گل سمائیں جو خوف خزاں نہ ہو بندش یہ شاعروں کی بعید از قیاس ہے ممکن نہیں کسی کے کمر یا دہاں نہ ہو ترچھی نہ ہو نگاہ تو بسمل نہ ہو کوئی سیدھا نہ جائے تیر جو ٹیڑھی کماں نہ ہو اللہ رے نگاہ صنم کی صفائیاں چورنگ کاٹ جائے مگر کچھ نشاں نہ ہو ٹوٹیں نہ یوں کسی پہ ستم پر ستم کبھی کیفیؔ جو آسماں پہ کوئی آسماں نہ ہو

ye bhi hai koi baat ki dil bad-gumaan na ho

غزل · Ghazal

دے چکے دل تو پھر اب دل پر اجارا کیسا ہم سمجھتے ہیں ہمارا ہے ہمارا کیسا ہر ادا بانکی ہے ہر ناز سے پیارا کیسا دل میں رکھ لیجئے انداز ہے سارا کیسا سرخ پوشاک وہ پہنیں گے خدا خیر کرے آج مریخ کا چمکے گا ستارا کیسا مجھ کو یہ لطف کہ وہ شرط میں بوسے جیتے ان کو یہ شرم کہ میں جیت میں ہارا کیسا مردم چشم نے پلکوں سے بلائیں لے لیں چشم بددور ہے وہ آنکھ کا تارا کیسا میں لئے جاؤں شب وصل مکرر بوسے تم کہے جاؤ کہ ہیں ہیں یہ دوبارا کیسا دم نظارہ نظر باز تڑپ جاتے ہیں شوخیٔ چشم سے ہے شوخ اشارہ کیسا تجھ پہ مرتے ہیں ترے وعدوں پہ ہم جیتے ہیں خالی باتوں کا بھی ہوتا ہے سہارا کیسا صاف آغوش تمنا سے نکل جاتے ہو وصل میں وصل سے کرتے ہو کنارا کیسا

de chuke dil to phir ab dil par ijaaraa kaisaa

Similar Poets