Kalam Aazar
Kalam Aazar
Kalam Aazar
Ghazalغزل
جبیں پہ داغ سیہ خواہشوں کے در کا تھا ہر ایک شخص گنہگار اپنے گھر کا تھا صدف سے چھٹ کے مقید ہوا زمانے میں شکار میں بھی عجب تنگیٔ نظر کا تھا عقیدہ ٹوٹ رہا تھا قفس پرستوں کا سبھی کو خوف مرے بڑھتے بال و پر کا تھا تھی اچھے اچھوں کی دستار اس کے قبضے میں کمال یہ بھی عجب دست بے ہنر کا تھا گناہگار اسالیب تھے زبان نہ تھی فساد شہر سخن میں دل و نظر کا تھا تمام عمر ہوائیں لڑی ہیں آذرؔ سے مگر یہ شخص بلا کے دل و نظر کا تھا
jabin pe daagh-e-siyah khvaahishon ke dar kaa thaa
کھود کر صدیوں کی تہہ سے مجھے گھر لے آتا آنے والا کوئی لمحہ مرے پر لے آتا کسی دریا سے صدف ڈھونڈتا انساں تھا تو کسی پتھر کے علاقے سے گہر لے آتا قد کی لمبائی سے افضل نہیں ہوتا کوئی ہاں اگر تو مری ہم رتبہ نظر لے آتا حوصلہ کھو دیا سچ کہنے کا تم نے ورنہ تلخ جملہ بھی محبت کا اثر لے آتا وسعتیں پل میں سمٹ آتیں زمانے بھر کی لفظ اڑنے کو جو تخئیل کے پر لے آتا سانس لینے کو یہاں زہر بھی پیتے ہیں لوگ تو بھی آذرؔ کوئی جینے کا ہنر لے آتا
khod kar sadiyon ki tah se mujhe ghar le aataa
عمر سے صدیوں کا رشتہ نہیں رکھا جاتا نفس پر اتنا بھروسہ نہیں رکھا جاتا آمد و رفت ضروری ہے کسی چہرے کی بند سب پر یہ دریچہ نہیں رکھا جاتا آستیں میں کوئی بت سر کسی سنگ در پر ہم سے ماتھے پہ یہ دھبا نہیں رکھا جاتا تجھ میں کچھ خوبی اگر ہے تو اسے سامنے لا زعم کا نام کرشمہ نہیں رکھا جاتا عام تحریروں سے ہٹ کر ہے صحیفوں کا مزاج کانچ کے ٹکڑوں میں ہیرا نہیں رکھا جاتا دل بھی اب نت نئی آفات سہے گا کب تک ہم سے کوزے میں یہ دریا نہیں رکھا جاتا سنگ کو آپ بھی کہنے لگے شیشہ آذرؔ اتنا کمزور عقیدہ نہیں رکھا جاتا
'umr se sadiyon kaa rishta nahin rakkhaa jaataa





