SHAWORDS
Kaleem Jazil

Kaleem Jazil

Kaleem Jazil

Kaleem Jazil

poet
6Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

masti-bhari vo shaam suhaani uThaa ke laa

مستی بھری وہ شام سہانی اٹھا کے لا جا میکدے سے میری جوانی اٹھا کے لا دل کی امنگ وصل کی خوشبو کے واسطے باغ وفا سے رات کی رانی اٹھا کے لا باطل سے تجھ کو معرکہ کرنا ہے گر یہاں چھوڑی ہوئی سلف کی نشانی اٹھا کے لا اے بلبل چمن تجھے شہرت جو چاہیے جا اس کے لب کی شوخ بیانی اٹھا کے لا دیوار دل کی شان بڑھانے کے واسطے تصویر اس کی کوئی پرانی اٹھا کے لا محفل میں ہوں گی تیری پذیرائیاں بہت جاذلؔ تو اپنی گزری کہانی اٹھا کے لا

غزل · Ghazal

abhi lataafat-e-urdu zabaan baaqi hai

ابھی لطافت اردو زبان باقی ہے وہ بانکپن وہ کلام و بیان باقی ہے محبتوں میں جو رہتی ہے فاصلے کی لکیر ابھی وہ تیرے مرے درمیان باقی ہے نکل کے دیکھ تو بازار زندگی میں ذرا محبتوں کی ہزاروں دکان باقی ہے تو دیکھ لے تو تری آنکھ بھی چھلک اٹھے بدن پہ زخم کا سارا نشان باقی ہے مجھے ہو خوف بھلا کیوں سیاہ راتوں کا ترے خیال کا روشن جہان باقی ہے کتاب عشق و محبت میں آج بھی جاذلؔ وصال و ہجر کی اک داستان باقی ہے

غزل · Ghazal

chaman ki taazgi phulon ki dil-kashi le kar

چمن کی تازگی پھولوں کی دلکشی لے کر ترے دیار میں آیا ہوں زندگی لے کر جو کر رہا ہے اکٹھا متاع ہستی تو وہاں نہ جائے گا سن لے تو ایک بھی لے کر رگوں میں دوڑ رہی ہے سیاہی نفرت کی چلے بھی آؤ محبت کی روشنی لے کر نواز دیں گے تو احسان آپ کا ہوگا میں ٹوٹی پھوٹی یہاں آیا شاعری لے کر زمانہ دیکھنے لگتا ہے شک کی نظروں سے کوئی نکلتا نہیں لب پہ اب ہنسی لے کر کسی سے کچھ نہیں کہتا ہے اپنے دل کی بات بھٹک رہا ہے وہ ہونٹوں پہ خامشی لے کر اندھیرے پاؤں پساریں گے کس طرح جاذلؔ محبتوں کی میں نکلا ہوں چاندنی لے کر

غزل · Ghazal

ye sahraa-e-mohabbat hai yahaan saaya nahin koi

یہ صحرائے محبت ہے یہاں سایہ نہیں کوئی گزرتے جا رہے ہیں سب مگر رکتا نہیں کوئی تمہیں سے میری وابستہ بہار زندگانی تھی تمہارے بعد ان آنکھوں میں اب جچتا نہیں کوئی چلو چل کر نئی دنیا کوئی آباد کرتے ہیں کہ مظلوموں کی فریادیں یہاں سنتا نہیں کوئی محبت کب کسی کو اس جہاں میں راس آئی ہے تمہاری بے وفائی کا مجھے شکوہ نہیں کوئی بیاباں کی طرح لگتی ہیں جب خاموش رہتی ہیں چھلک جائے تو ان آنکھوں سا پھر دریا نہیں کوئی وطن پہ جاں نثاری کا تو دعویٰ لوگ کرتے ہیں کسی میں جاں لٹانے کا مگر جذبہ نہیں کوئی سبھی آسودہ رہتے ہیں سکوں کی نیند سوتے ہیں ہمارے شہر میں جاذلؔ ابھی بھوکا نہیں کوئی

غزل · Ghazal

aankhon mein intizaar ki ghaDiyaan liye hue

آنکھوں میں انتظار کی گھڑیاں لیے ہوئے بیٹھا ہوں دل میں کتنے ہی ارماں لئے ہوئے پل بھر میں پھوٹ سکتا ہے جذبوں کا اک ہجوم آغوش میں حباب ہے طوفاں لئے ہوئے حسرت بھری نگاہ سے بس دیکھتا رہا نکلیں جب اس کو ساتھ میں سکھیاں لئے ہوئے مانا کہ میری زندگی مشکل میں ہے مگر چلتا ہوں پھر بھی خوشیوں کا ساماں لئے ہوئے جاذلؔ بہت ہی ناز تھا جب عشق پر تجھے کیوں پھر رہا ہے چاک گریباں لئے ہوئے

غزل · Ghazal

na ye badlaa na vo badlaa na ye dil kaa jahaan badlaa

نہ یہ بدلا نہ وہ بدلا نہ یہ دل کا جہاں بدلا اگر بدلا یہاں کچھ تو فقط وہ مہرباں بدلا تمہیں بھی چین کی نیندیں یہاں سونے نہیں دیں گی اگر اجداد کا تم نے ذرا سا بھی نشاں بدلا زمانے میں بہت آیا تغیر دوستو لیکن زمیں جیسی کی تیسی ہے نہ رنگ آسماں بدلا ابھی تک لوگ قائم ہیں انہیں جھوٹی روایت پر تمہاری حق بیانی سے کوئی آخر کہاں بدلا ہمیشہ جس کے ہونٹوں پر محبت کی رہیں باتیں خدا جانے کہ کیوں اس کا ہے انداز بیاں بدلا قدم آگے بڑھاتا ہی رہا میں سخت راہوں پر نہ ہمت ہی مری ٹوٹی نہ یہ عزم جواں بدلا ہے ان کو آج بھی جاذلؔ وفاداری پہ شک لیکن نہ ہم نے شاخ گل چھوڑی نہ ہم نے آشیاں بدلا

Similar Poets