SHAWORDS
K

Kaleem Sahasrami

Kaleem Sahasrami

Kaleem Sahasrami

poet
3Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

na ho jo un ki tabiat vafaa-shiaar nahin

نہ ہو جو ان کی طبیعت وفا شعار نہیں ہمیں تو تلخیٔ دوراں بھی ناگوار نہیں یہ ظرف ظرف کی باتیں ہیں اس کا کیا شکوہ ہے شکر آپ کی نظروں میں شرمسار نہیں ہمیں نے خون سے سینچا ہے غنچہ و گل کو بہار کہتے ہیں جس کو وہ یہ بہار نہیں نظر نظر ہے فسانہ نفس نفس شکوہ ہجوم یاس میں شرمندۂ بہار نہیں خزاں رسیدہ بہاروں کا ذکر کیا ہو کلیمؔ ہمیں تو کچھ بھی محبت میں سازگار نہیں

غزل · Ghazal

kisi ki jab se jafaaon kaa silsila na rahaa

کسی کی جب سے جفاؤں کا سلسلہ نہ رہا دل حزیں میں محبت کا حوصلہ نہ رہا دیار حسن میں ملتی نہیں ہے جنس وفا دل غریب کا اب ان سے واسطہ نہ رہا ہوائے یاس نے شمع امید گل کر دی کسی سے اب کوئی شکوہ بھی برملا نہ رہا مری نظر کا تقاضا بھلا وہ کیا سمجھیں کہ حسن و عشق میں پہلا سا رابطہ نہ رہا اجڑ گیا ہے کچھ اس طرح اب دیار وفا کہیں بھی میری تمنا کا نقش پا نہ رہا خودی نہ ہو سکی منت کش نشاط وفا ہمارا ہاتھ کبھی مائل دعا نہ رہا کلیمؔ کون مصیبت میں کس کا ہوتا ہے دیار دوست میں کوئی بھی آشنا نہ رہا

غزل · Ghazal

phir iztiraab-e-shauq mein gham se mafar kahaan

پھر اضطراب شوق میں غم سے مفر کہاں وہ حسن التفات وہ حسن نظر کہاں تاریکیٔ حیات سے گھبرا گیا ہے جی دیکھیں شب فراق کی پھر ہو سحر کہاں تیرے بغیر محفل دل بھی اداس ہے اے حسن نا شناس تجھے یہ خبر کہاں اب تک سمجھ رہا تھا جسے تیری رہ گزر تھا اک فریب شوق تری رہ گزر کہاں عرصہ ہوا کہ بزم تمنا اجڑ چکی پہلی سی اب وہ رونق شام و سحر کہاں جلووں کی تاب لا نہ سکی دل کی آنکھ بھی پھر دیکھے کس طرح کوئی تاب نظر کہاں اک چشم لطف کا ہے تری منتظر کلیمؔ ورنہ جبین شوق کہاں سنگ در کہاں

Similar Poets