SHAWORDS
Kamal Lakhnavi

Kamal Lakhnavi

Kamal Lakhnavi

Kamal Lakhnavi

poet
11Ghazal

Ghazalغزل

See all 11
غزل · Ghazal

بیٹھے ہیں گلستان میں ہمت کو ہار کے ان سے سلجھ سکیں گے نہ گیسو بہار کے وارفتگئ شوق کا عالم تو دیکھیے بیٹھا ہوا ہوں بزم تمنا سنوار کے رگ رگ میں موجزن ہے مری کیف اضطراب او یاد آنے والے شب انتظار کے نیرنگیٔ جنوں کے کرشمے تو دیکھیے سامان ہو رہے ہیں قفس میں بہار کے آغوش انقلاب میں پلتی رہی حیات احسان ہیں یہ گردش لیل و نہار کے اہل چمن چمن کی فضاؤں سے ہوشیار پہرے جگہ جگہ پہ ہیں برق و شرار کے تنظیم حادثات کا نقشہ بدل دیا نظم جہاں کی زلف پریشاں سنوار کے غفلت شعار وقت نہ بیدار ہو سکے خاموش ہو گیا ہے زمانہ پکار کے بڑھتا ہے غم کی سمت مسرت سے اے کمالؔ اللہ رے حوصلے دل امیدوار کے

baiThe hain gulsitaan mein himmat ko haar ke

غزل · Ghazal

صاحب جرأت اظہار نہیں ہے کوئی وقت سے برسر پیکار نہیں ہے کوئی ہنس رہا ہوں میں سر بزم حوادث کہ جہاں مسکرانے پہ بھی تیار نہیں ہے کوئی میرے ہر شعر میں دھڑکن ہے دل عالم کی یہ حدیث لب و رخسار نہیں ہے کوئی مانگ کیا مانگتی ہے فصل بہاراں ہم سے لاکھ اس دشت میں گلزار نہیں ہے کوئی ہے بڑی رونق بازار ہوس شہر بہ شہر جنس الفت کا خریدار نہیں ہے کوئی آج خیرات مسرت کے سبھی طالب ہیں نعمت غم کا طلب گار نہیں ہے کوئی بات جو کہہ کے سر بزم پلٹ جاتے ہیں ان کی تقریر کا معیار نہیں ہے کوئی کس کو روداد غم زیست سناؤں جا کر بات کرنے پہ بھی تیار نہیں ہے کوئی خواب فردا میں اسے دیکھ رہا ہوں میں کمالؔ جس قفس میں در و دیوار نہیں ہے کوئی

saahib-e-jurat-e-izhaar nahin hai koi

غزل · Ghazal

میرا دل صاف ہے ہر شخص سے درپن کی طرح میں تو دشمن سے بھی ملتا نہیں دشمن کی طرح بے تحاشا جو تری یاد کبھی آئی ہے اشک آنکھوں سے برسنے لگے ساون کی طرح میرے ہونٹوں کے تبسم پہ نہ جاؤ یارو زندگی ہے مری جلتے ہوئے ایندھن کی طرح برق رہ رہ کے چمکتی ہے چمکنے دیجے ہم بنائیں گے نشیمن کو نشیمن کی طرح ننگ کردار میں بزم بشریت کے لئے ہاتھ پھیلائیں جو پھیلے ہوئے دامن کی طرح مصلحت کا یہ تقاضا ہے کہ بچ کر رہئے آج کا دور ہے بپھری ہوئی ناگن کی طرح روز کھلتے ہیں نئے پھول مرے دامن میں دور گلشن سے مہکتے ہوئے گلشن کی طرح وقت کی بات ہے ہم تخت نشینان جہاں در بدر پھرتے ہیں محتاج نشیمن کی طرح شکر صد شکر زمانے کی نگاہوں میں کمالؔ میرا دامن نہیں مسکے ہوئے دامن کی طرح

meraa dil saaf hai har shakhs se darpan ki tarah

غزل · Ghazal

درد فراق درد تمنا لئے ہوئے دنیا سے جا رہا ہوں میں دنیا لئے ہوئے ہوں دل میں ایک تیری تمنا لئے ہوئے یا ہوں تمام عشق کی دنیا لئے ہوئے اکثر اٹھا ہوں دوست کی محفل سے اس طرح آنکھوں میں اشک اشکوں میں دریا لئے ہوئے دنیا میں رہ کے بھی ہے وہ دنیا سے بے نیاز جو ہے ترے خیال کی دنیا لئے ہوئے شان خلوص سجدہ کے قربان جائیے اٹھی جبیں تو نقش کف پا لئے ہوئے ملتا ہے کیا جواب تری بارگاہ سے آیا ہوں لب پہ حرف تمنا لئے ہوئے صحرا میں کٹ رہی ہے اگر زندگی تو کیا آنکھوں میں ہے بہار کا نقشہ لئے ہوئے ان کا علاج کون کرے بس ترے سوا ہیں جتنے زخم دل میں مسیحا لئے ہوئے اب جو بھی بزم دوست میں پیش آئے اے کمالؔ جاتا ہوں دل میں دل کا تقاضا لئے ہوئے

dard-e-firaaq dard-e-tamannaa liye hue

غزل · Ghazal

غم حیات سے فرصت ہمیں کبھی نہ ملی خوشی کے نام کو سنتے رہے خوشی نہ ملی اسی کے دل سے کوئی اس کی تشنگی پوچھے کہ میکدے میں جسے ایک بوند بھی نہ ملی میں جس طرف بھی جہاں میں گیا خوشی کے لئے مجھے تو غم کے علاوہ کہیں خوشی نہ ملی کبھی کبھی یہ جلانے کے بعد دیکھا ہے مرے چراغ سے خود مجھ کو روشنی نہ ملی جو ان کے سامنے بے اختیار آئی تھی پھر آج تک مرے ہونٹوں کو وہ ہنسی نہ ملی لگا لیا غم دوراں نے پھر کلیجے سے غم حیات کے ماروں کو جب خوشی نہ ملی مرا مزاج زمانے نے لاکھ اپنایا مرے مزاج کی ایسی تو سادگی نہ ملی وہ اور ہیں کہ جو لطف حیات اٹھاتے ہیں کمالؔ موت بھی مجھ کو ہنسی خوشی نہ ملی

gham-e-hayaat se fursat hamein kabhi na mili

غزل · Ghazal

مری بات پر جو چلتے تو کچھ اور بات ہوتی جو روش نہ تم بدلتے تو کچھ اور بات ہوتی رہ کائنات م میں مرا ساتھ چھوڑنا کیا مرے ساتھ ساتھ چلتے تو کچھ اور بات ہوتی پس پردہ اللہ اللہ یہ تجلیوں کا عالم وہ حجاب سے نکلتے تو کچھ اور بات ہوتی سر حشر وہ تو کہئے انہیں دیکھ کے پریشاں جو بیاں نہ ہم بدلتے تو کچھ اور بات ہوتی یہ چراغ عزم و ہمت یوں جلے بھی تو جلے کیا اگر آندھیوں میں جلتے تو کچھ اور بات ہوتی جو پئے ہیں میں نے آنسو وہ بدل کے اپنی منزل تری آنکھ سے نکلتے تو کچھ اور بات ہوتی وہ نظر کی گردشوں کو جو بہ نام مے گساری مرے جام سے بدلتے تو کچھ اور بات ہوتی جو شعاع فکر و فن سے مرے وادیٔ ادب میں نئے آفتاب ڈھلتے تو کچھ اور بات ہوتی ہمیں اے کمالؔ آخر کوئی تھا جو تھا سنبھالے ہمیں گر کے خود سنبھلتے تو کچھ اور بات ہوتی

miri baat par jo chalte to kuchh aur baat hoti

Similar Poets