Kamal Salarpuri
وہ ظلمت شب کا غلبہ ہے وہ یاس کے بادل چھائے ہیں اب صبح بھی صبح امید نہیں اسے گردش دوراں کیا ہوگا دیوار چمن پر زاغ و زغن مصروف ہیں نغمہ خوانی میں ہر شاخ پر الو بیٹھا ہے انجام گلستاں کیا ہوگا اغراض بڑھیں اخلاق مٹے گفتار رہی کردار گئے اس پر بھی کہیں ٹھہراؤ نہیں اے قسمت انساں کیا ہوگا پابند سلاسل نیکی ہے حاصل ہے بدی کو آزادی یہ شکل گر تعمیر کی ہے تخریب کا عنواں کیا ہوگا کیوں زیست کا بحر بے پایاں محروم ہے اب اک موج سے بھی صدیوں سے سکوت اک طاری ہے اے سطوت طوفاں کیا ہوگا ارباب ہوس کا جمگھٹ ہے اس بزم میں کوئی رند نہیں اے جام زر افشاں کیا ہوگا اے ساقیٔ دوراں کیا ہوگا اس دیس میں جو بھی رہزن تھے وہ رہبر ملت کہلائے ہر چور نگہباں ٹھہرا ہے اے قدرت یزداں کیا ہوگا
vo zulmat-e-shab kaa ghalba hai vo yaas ke baadal chhaae hain