Kamil Burhanpuri
دستا ہے خط رخ شہہ خوباں کے آس پاس جیوں فوج مور تخت سلیماں کے آس پاس آسودگی کی شام غریباں دیکھیں مجال جانا مگر ہے زلف پریشاں کے آس پاس دست گدا کوں بار کہاں گرد کی نمن تغری بسی ہے آ ترے داماں کے آس پاس سکتے میں خار در دل بیمار ہجر میں مژگاں نہیں ہے دیدۂ حیراں کے آس پاس گلرو نے جب سے گلشن مکتب کو دی طرب پھرتا ہے دل جو سوز دبستاں کے آس پاس جانب نہ آسیائے فلک سے ہوا کوئی دانا اگر ہے مت پھرے دوراں کے آس پاس کاملؔ اگر خیال طواف حرم ہے تو قرباں ہو در گہہ شہہ مرداں کے آس پاس
دستا ہے خط رخ شہہ خوباں کے آس پاس